’ہمیں فنڈ دو یا نظام ختم کرو‘، پی ٹی آئی بلدیاتی نمائندے اپنی ہی حکومت کے خلاف سڑکوں پر آگئے

پیر 5 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

4 سالوں سے مسلسل احتجاج کررہے ہیں، خیبر پختونخوا اسمبلی اور اڈیالہ جیل کے سامنے بھی احتجاج کیا، لیکن ابھی تک ایک روپے کا فنڈ بھی نہیں ملا۔

یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا کے بلدیاتی نمائندوں نے احتجاج کے لیے اڈیالہ جیل کا رخ کیوں کیا؟

یہ کہنا تھا خیبر پختونخوا میں حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے منتخب بلدیاتی نمائندے مالک فیصل کا، جو پشاور میں خیبرپختونخوا اسمبلی کے باہر بلدیاتی نمائندوں کے احتجاج میں شریک ہیں۔

خیبر پختونخوا کے منتخب بلدیاتی نمائندوں نے پیر کے روز خیبرپختونخوا اسمبلی کے سامنے مصروف ترین خیبر روڈ کو بند کرکے احتجاج کیا اور بلدیاتی حکومت کو فنڈز اور اختیارات دینے کا مطالبہ کیا۔

مالک فیصل نے کہاکہ ان کی درخواست ہے کہ ایک آئینی ترمیم کے ذریعے بلدیاتی نظام کو ہی ختم کردیا جائے۔

’ہم بلدیاتی نمائندے اختیارات چاہتے ہیں‘

مردان کے میئر حمایت اللہ مایار احتجاجی مظاہرے کی سربراہی کر رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ 4 سالوں سے منتخب نمائندے مسلسل اختیارات کے لیے سڑکوں پر ہیں، جو صوبائی حکومت نہیں دے رہی۔

انہوں نے کہاکہ بلدیاتی نمائندوں سے اختیارات واپس لیے گئے اور انہیں فنڈز سے محروم رکھا گیا۔ ’بلدیاتی نمائندوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا گیا، اختیارات واپس لے لیے گئے۔‘

حمایت اللہ مایار نے کہاکہ بلدیاتی نمائندوں کے 4 سال ضائع کردیے گئے اور وعدوں کے باوجود فنڈز اور اختیارات نہیں دیے گئے۔

انہوں نے کہاکہ خیبرپختونخوا حکومت وفاق سے بقایاجات کا مطالبہ کررہی ہے لیکن خود بلدیاتی حکومت کی مقروض ہے اور جائز حق اور فنڈز نہیں دے رہی۔

’ہم نے 4 سال احتجاج کیا، کام نہیں ہوا‘

پی ٹی آئی کے بلدیاتی نمائندے مالک فیصل نے بتایا کہ 2021 میں انتخابات ہوئے اور چند ماہ بعد ہی بلدیاتی ایکٹ میں ترمیم کرکے اختیارات ختم کر دیے گئے۔

’اس دور میں بلدیاتی نمائندوں کو ایک روپے کا فنڈ بھی نہیں ملا، ہم نے درخواست کی، احتجاج کیا، وعدے ہوئے، لیکن ملا کچھ بھی نہیں۔‘

انہوں نے کہاکہ کوئی ایک سیاسی جماعت بھی بلدیاتی حکومتوں کے حق میں نہیں ہے۔ کسی صوبے میں بھی فنڈز اور اختیارات نہیں دیے جا رہے۔ انہوں نے کہاکہ ان کے احتجاج کا مقصد بلدیاتی نظام کو اختیارات دلوانا ہے۔

’کئی آئینی ترامیم ہو چکی ہیں، ایک اور کر دیں اور اس بلدیاتی نظام کو ہی ختم کردیں، جب فنڈز اور اختیارات نہیں دے رہے تو نام کے نظام کا کیا فائدہ؟‘

نوشہرہ سے منتخب بلدیاتی نمائندے تیمور کمال نے بتایا کہ انہیں ایک روپے کا فنڈ بھی نہیں ملا اور 2 ماہ بعد بلدیاتی حکومتیں ہی ختم ہو رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب کا مجوزہ نیا بلدیاتی نظام کیا خیبرپختونخوا ماڈل سے متاثر ہے؟

’ہمارے اپنے پیسے بھی نہیں دیے گئے، ہم چاہتے ہیں کہ فنڈز دیے جائیں۔‘

انہوں نے بتایا کہ پی ٹی آئی انصاف کی باتیں کر رہی ہے لیکن اپنے ہی بلدیاتی نمائندوں کو انصاف نہیں دے رہی۔

بلدیاتی نمائندوں نے خیبر پختونخوا اسمبلی کے سامنے کئی گھنٹوں تک ٹریفک بند کرکے احتجاج کیا اور بعد ازاں پرامن طور پر منتشر ہوگئے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

لاہور: سہیل آفریدی خود پولیس وین میں بیٹھ گئے، پی ٹی آئی کے اغوا کے دعوے پر عوام کی شدید تنقید

موسمیاتی تبدیلی کے اثرات، لڑکیوں کی تعلیم کے لیے محفوظ اسکول کیوں اہم ہیں؟

اسلام آباد پر چڑھائی کی کوشش کی گئی تو نقصان کی ذمے داری احتجاج کرنے والوں پر ہوگی، طارق فضل چوہدری

برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم کے والد انتقال کرگئے، وزیراعظم شہباز شریف کا اظہار افسوس

انتشار کی سیاست کو پذیرائی نہ ملی تو مذہبی جذبات کا سہارا، سیاسی کمزوری کو عقیدت کا رنگ دینے سے حقائق نہیں بدلتے

ویڈیو

پاکستان میں ٹیکنالوجی کا سب سے بڑا میلہ، دنیا بھر سے ممتاز آئی ٹی ماہرین کی شرکت

کیا 27 ستمبر کا احتجاج پی ٹی آئی کے لیے خطرہ ہے، صحافیوں کو بلوچستان کیوں بلایا گیا؟

اداکاری جمال شاہ کی وجہ سے چھوڑی، میرے پاس تشدد کے ثبوت موجود ہیں، فریال گوہر

کالم / تجزیہ

جین زی ماضی کی طرف کیوں جھانک رہی ہے؟

ایک سانس کی قیمت

’ساڈا دل توڑ کے توں ویں پچھتاویں گا‘