ڈنمارک، برطانیہ اور فرانس نے ٹرمپ کی گرین لینڈ پر دعوے کی مخالفت

پیر 5 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ڈنمارک، برطانیہ اور فرانس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات کو مسترد کر دیا جن میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکا کو قومی سلامتی کے لیے گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ تینوں ممالک نے زور دیا ہے کہ سرحدیں زبردستی تبدیل نہیں کی جا سکتیں اور گرین لینڈ کا مستقبل صرف گرین لینڈرز اور ڈنمارک کی بادشاہی کے حوالے ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور اہلیہ کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز، نیویارک کی عدالت میں پیش

ٹرمپ نے بارہا کہا کہ امریکا کو گرین لینڈ کی ضرورت ہے اور یہ علاقہ قومی دفاع کے لیے اسٹریٹجک اہمیت رکھتا ہے۔

ایئر فورس ون پر صحافیوں سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ہمیں گرین لینڈ کی ضرورت ہے، بالکل۔ ہمیں یہ دفاع کے لیے چاہیے۔

گرین لینڈ اور ڈنمارک کی شدید ردعمل

گرین لینڈ کے وزیر اعظم جینس فریڈریک نیلسن نے ٹرمپ کے بیانات کی سختی سے تردید کی۔ انہوں نے فیس بک پر کہا کہ اب کافی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مزید دباؤ یا اشتعال انگیزی نہیں، یہ علاقہ فروخت کے لیے نہیں ہے اور اس کا مستقبل کسی سماجی میڈیا یا بیرونی دباؤ سے طے نہیں ہو سکتا۔

ڈنمارک کی وزیر اعظم میٹے فریڈرکسن نے بھی واشنگٹن سے مطالبہ کیا کہ وہ ایک قریبی اتحادی کے خلاف دھمکیوں سے باز رہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ بالکل غیر معقول ہے کہ امریکا گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرے۔ ڈنمارک اور گرین لینڈ نیٹو کے رکن ہیں اور اتحادیوں کی سیکیورٹی کی ضمانت حاصل ہے۔

فرانس اور برطانیہ کا ڈنمارک کے ساتھ اظہار حمایت

فرانس نے پیر کو ڈنمارک اور گرین لینڈ کے ساتھ اپنی مضبوط یکجہتی کا اعلان کیا۔ وزارت خارجہ کے ترجمان پاسکل کانفارو نے کہا کہ سرحدیں زبردستی تبدیل نہیں کی جا سکتیں۔

مزید پڑھیے: صدر وینزویلا مادورو کے بعد ٹرمپ کا اگلا عسکری قدم کیا ہوگا؟

ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ گرین لینڈ گرین لینڈرز اور ڈنمارک کی عوام کی ملکیت ہے اور ان کا حق ہے کہ وہ فیصلہ کریں۔

برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے بھی ڈنمارک اور گرین لینڈ کے موقف کی حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ میں وزیر اعظم فریڈرکسن کے موقف کے ساتھ ہوں، وہ گرین لینڈ کے مستقبل کے بارے میں درست کہہ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا گرین لینڈ اور ڈنمارک ہی اس کا فیصلہ کریں گے۔

مزید پڑھیں: وینزویلا پر امریکی حملے کے بعد پہلا پیر، تیل کی قیمتوں میں کمی ہوئی یا اضافہ؟

یاد رہے کہ ٹرمپ کے بیانات ایسے وقت میں آئے جب یورپ میں امریکا کے اقدامات پر تشویش پائی جا رہی ہے خصوصاً وینزویلا میں امریکی فوجی آپریشن کے بعد جس میں صدر نکولس مادورو کو حراست میں لیا گیا۔

صدر ٹرمپ کی یہ بیانات یورپی ممالک میں خدشات کو بڑھا رہی ہیں کہ امریکی صدر کسی بھی وقت طاقت کا استعمال کرنے پر آمادہ ہو سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: وینزویلا کی صورتحال پر نظر، پاکستانی شہریوں کی حفاظت کے لیے اقدامات جاری ہیں، دفتر خارجہ

اس کے علاوہ سابقہ ٹرمپ معاون کی جانب سے گرین لینڈ کا تصویر پوسٹ کرنا جس میں امریکی پرچم کے رنگ استعمال کیے گئے تھے کشیدگی کو مزید بڑھا گیا۔ گرین لینڈ کے وزیر اعظم نے اس پوسٹ کو غیر موزوں قرار دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

آبنائے ہرمز پر امریکی شکنجہ: ایران کی سمندری تجارت بند، خطے میں کشیدگی اور عالمی معیشت متاثر

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی: امریکا اسے کیسے نافذ کر سکتا ہے؟

ایران امریکا مذاکرات کی بحالی کا امکان، عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے نیچے آگئی

اسلام آباد میں کیا دیکھوں اور فارغ وقت کہاں گزاروں؟ امریکی صحافی نے پاکستانیوں سے تجاویز مانگ لیں

مالی سال 2026 میں پاکستان کی معاشی شرح نمو 3.6 فیصد رہنے کی توقع، آئی ایم ایف

ویڈیو

سعودی عرب کا پاکستان کے لیے 3 ارب ڈالر اضافی معاونت کا اعلان، 5 ارب ڈالر ڈپازٹ کی مدت میں توسیع

مریم نواز شریف کی وزارت اعلیٰ کے 2 برس، لوگ کیا کہتے ہیں؟

پاکستان کی ثالثی نے دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹ کو بچا لیا

کالم / تجزیہ

محبت، کتابیں اور دستوئیفسکی کے ’بیچارے لوگ‘

ایران امریکا تصادم کس طرف جا رہا ہے؟

ایک تھی آشا