مذاکرات موجودہ پارلیمنٹ کو ختم کرنے کے لیے ہوں گے، محمود اچکزئی، اسمبلیوں سے استعفوں کا بھی عندیہ

منگل 6 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کے معاملے پر مؤقف واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر 8 فروری کے بعد کی صورتحال پر بات کرنی ہے تو ہم تیار ہیں، تاہم یہ مذاکرات موجودہ پارلیمنٹ کو ختم کرنے کے لیے ہوں گے، اگر مجبور کیا گیا تو ہم اسمبلیوں سے مستعفی ہو جائیں گے۔

راولپنڈی میں فیکٹری ناکے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہاکہ 8 فروری کو 25 کروڑ عوام کی رائے تبدیل کی گئی، انتخابات میں جیتنے والوں کو ہرایا گیا اور ہارنے والوں کو کامیاب قرار دیا گیا۔ مذاکرات اسی ناانصافی پر ہوں گے۔

مزید پڑھیں: عمران خان سے پھر کسی کو ملاقات کی اجازت نہ ملی، علیمہ خان کا کارکنان کے ساتھ دھرنا

ان کا کہنا تھا کہ خطہ تیزی سے کشیدگی کی طرف جا رہا ہے اور حالیہ عالمی واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ حالات نہایت نازک ہیں۔

سربراہ تحریک تحفظ آئین نے کہاکہ سیاسی جماعتوں کا تحفظ آئین کے مطابق بات چیت میں ہے، اور مذاکرات کا مقصد پارلیمنٹ کی بالادستی بحال کرنا ہونا چاہیے۔

انہوں نے واضح کیاکہ بات چیت اس نکتے پر ہوگی کہ موجودہ پارلیمنٹ کو ختم کرکے عبوری حکومت قائم کی جائے، جو الیکشن کمشنر کی تقرری کے بعد شفاف انتخابات کرائے۔

محمود اچکزئی نے اعلان کیاکہ 8 فروری کو ملک بھر میں احتجاج کیا جائے گا، جس میں کارکنان اپنے اپنے علاقوں میں آواز بلند کریں گے۔

ان کے مطابق تاجروں، رکشہ ڈرائیوروں اور ٹریڈ یونینز کو بھی احتجاج میں شامل کیا جائےگا، اور مطالبہ جمہوری پاکستان کی تعمیر نو ہوگا۔

عمران خان سے جیل میں ملاقات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہنیں ملاقات کے لیے آتی ہیں تو اس سے کوئی آسمان نہیں گر جاتا، ملاقاتوں کے عدالتی احکامات موجود ہیں اس کے باوجود واٹر کینن کا استعمال کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہاکہ ان کا نعرہ ظلم کے خاتمے کا ہے، وہ نہ گالی دیں گے اور نہ پتھراؤ کریں گے۔ ان کے مطابق اڈیالہ جیل آمد عمران خان کی بہنوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔

محمود خان اچکزئی نے کہاکہ دنیا میں سنگین جرائم میں ملوث افراد کو بھی ملاقات کی سہولت دی جاتی ہے، لہٰذا بانی پی ٹی آئی عمران خان کی فیملی کو بھی ملاقات کا حق حاصل ہے۔

انہوں نے کہاکہ ایک صوبے کا وزیراعلیٰ اپنے قائد سے مل کر ہدایات لینا چاہتا ہے جو ایک فطری بات ہے۔

علاقائی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اگر ایران پر حملہ ہوتا ہے تو ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم کہاں کھڑے ہوں گے، اور ہمیں اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ انتہائی احتیاط سے تعلقات آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے خبردار کیاکہ اگر ریاستی ادارے سیاست میں مداخلت کریں گے تو وہ آواز بلند کریں گے۔

عوام سے اپیل کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ 8 فروری کو گھروں سے نکلیں، کسی کو یہ نہیں بتایا جائے گا کہ کہاں جانا ہے۔

انہوں نے 26 نومبر کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس روز عوام پر گولیاں چلائی گئیں۔

محمود خان اچکزئی نے کہاکہ بانی پی ٹی آئی عمران خان پاکستان کے مقبول ترین رہنماؤں میں سے ایک ہیں، اگر وہ غلط تھے تو انہیں وزیراعظم کیوں بنایا گیا۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی مذاکرات سے قبل اپنے کیے پر دنیا کے سامنے معافی مانگے، وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ

انہوں نے کہاکہ اگر غلطی بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہے تو ملاقات کی اجازت دی جائے تاکہ انہیں آگاہ کیا جا سکے، اور اگر غلطی دوسری طرف ہے تو کیا وہ اس کا اعتراف کریں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ مسائل کے حل کے لیے تمام فریقین کو بیٹھ کر اپنی غلطیوں کی اصلاح کرنی ہوگی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاک افغان کشیدگی کے باعث اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، انڈیکس 3 ہزار سے زائد پوائنٹس گرگیا

ایران نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک بار پھر ثالثی کی پیشکش کردی

افغان طالبان نے متعدد پوسٹوں پر سفید پرچم لہرا کر امن کی بھیک مانگ لی

جدہ میں اہم سفارتی سرگرمیاں، بنگلہ دیشی وزیر خارجہ کی کلیدی ملاقاتیں

سعودی عرب کا غزہ میں قائم کچن، روزانہ 36 ہزار خاندانوں کو کھانا فراہم کرے گا

ویڈیو

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

آپریشان غضب للحق، کابل سے قندھار تک افغان طالبان کے خلاف کامیاب پاکستانی کارروائی، عالمی طاقتوں کی کشیدگی کم کرنے کی اپیل

بہن بھائیوں میں حسد کیوں پیدا ہوتا ہے، حضرت یوسفؑ کی کہانی ہمیں کیا سبق سکھاتی ہے؟

کالم / تجزیہ

طالبان کے بارے میں استاد صاحب سچے ثابت ہوئے

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟