سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ان افواہوں کو بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کے صدر امین الاسلام بلبُل نے مسترد کر دیا ہے جن میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو دوبارہ انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) میں کھیلنے کی پیشکش کی ہے۔
امین الاسلام بلبُل نے واضح طور پر کہا ہے کہ اس حوالے سے بی سی سی آئی سے نہ کوئی تحریری اور نہ ہی زبانی رابطہ ہوا ہے۔
مستفیض الرحمان کے آئی پی ایل سے اخراج پر تنازع
بنگلہ دیش کے فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو گزشتہ ماہ ہونے والی نیلامی میں کولکتہ نائٹ رائیڈرز (کے کے آر) نے 9 کروڑ 20 لاکھ روپے میں خریدا تھا، تاہم بعد ازاں انہیں آئی پی ایل 2026 کے اسکواڈ سے نکال دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے آئی پی ایل سے نکالے گئے بنگلہ دیش کے فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کا پی ایس ایل کھیلنے کا فیصلہ
اس فیصلے کے بعد بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان ایک غیر معمولی کرکٹ تنازع سامنے آیا، جس پر بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے شدید ناراضی کا اظہار کیا۔
بی سی سی آئی اور بی سی بی کے تعلقات میں کشیدگی
مستفیض الرحمان کی آئی پی ایل سے علیحدگی کے بعد بی سی سی آئی اور بی سی بی کے درمیان متعدد معاملات پر اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں۔
بنگلہ دیش نے احتجاجاً ملک میں آئی پی ایل میچز کی نشریات پر تاحکمِ ثانی پابندی عائد کر دی ہے، جبکہ آئندہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے بھارت کا دورہ کرنے سے بھی انکار کر دیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق مستفیض کو نکالنے کا فیصلہ بی سی سی آئی کے اعلیٰ ترین حلقوں سے آیا، جبکہ کئی حکام کو اس فیصلے سے قبل اعتماد میں نہیں لیا گیا۔
بی سی بی صدر کا دوٹوک مؤقف
بی سی بی صدر امین الاسلام بلبُل نے بنگلہ دیشی اخبار ’آجکر‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’مستفیض کی آئی پی ایل میں واپسی کے حوالے سے میری بی سی سی آئی سے نہ کوئی تحریری بات ہوئی ہے اور نہ زبانی۔ میں نے اپنے بورڈ کے کسی رکن سے بھی ایسی کوئی بات نہیں کی۔ اس خبر میں کوئی سچائی نہیں۔‘
تمیم اقبال کا مذاکرات پر زور
بنگلہ دیش کے سابق کپتان تمیم اقبال نے بی سی بی پر زور دیا ہے کہ آئندہ ماہ بھارت میں ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شرکت کے فیصلے میں عوامی جذبات کے بجائے ہوش مندانہ حکمتِ عملی اختیار کی جائے۔
تمیم اقبال نے کہا کہ ایسے فیصلوں کے اثرات آئندہ 10 برس تک محسوس کیے جا سکتے ہیں، اس لیے ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھایا جانا چاہیے۔
سیکیورٹی خدشات، میچز سری لنکا منتقل کرنے کی خواہش
بنگلہ دیش نے 7 فروری سے شروع ہونے والے ٹی 20 ورلڈ کپ کے لیے بھارت کا دورہ کرنے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے اور سیکیورٹی خدشات کی بنیاد پر مطالبہ کیا ہے کہ ان کے میچز سری لنکا منتقل کیے جائیں۔
یہ بھی پڑھیے آئی پی ایل سےمستفیض الرحمان کا اخراج،بنگلہ دیش کا ٹورنامنٹ نشریات نہ دکھانے پر غور
تمیم اقبال نے اس حوالے سے کہا ’صورتحال اس وقت نازک ہے، لیکن بہت سے مسائل بات چیت کے ذریعے حل ہو سکتے ہیں، اگر تمام فریق ایک میز پر بیٹھیں۔‘
سخت حکومتی مؤقف اور بڑھتا بھارت مخالف رجحان
بنگلہ دیش کے مشیر برائے کھیل آصف نذرالاسلام نے مقام کی تبدیلی کے معاملے پر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاملہ قومی وقار سے جڑا ہوا ہے۔
واضح رہے کہ بنگلہ دیش کے سرکاری حلقوں میں بھارت مخالف جذبات میں بھی واضح اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔














