بنگلہ دیش کے سرحدی علاقے ٹیکناف میں میانمار کی جانب سے آنے والی گولی لگنے سے ایک 10 سالہ اسکول کی طالبہ جاں بحق ہو گئی، جس کے بعد علاقے میں شدید غم و غصہ پھیل گیا اور شہریوں نے احتجاج کرتے ہوئے مرکزی شاہراہ کو عارضی طور پر بند کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش نیوی کی کارروائی، میانمار اسمگلنگ کی کوشش ناکام، 11 افراد گرفتار
کاکس بازار کے علاقے ٹیکناف میں اتوار کے روز میانمار کی سرحد پار سے آنے والی فائرنگ کے نتیجے میں چوتھی جماعت کی طالبہ افنان جاں بحق ہو گئی۔ مقامی حکام کے مطابق واقعہ صبح تقریباً 10 بجے ہوا، جب افنان ہواکینگ علاقے میں لامبابیل ٹیکچھّی پل کے قریب موجود تھی، جو میانمار کی سرحد کے قریب واقع ہے۔
Local residents of the Teknaf border area have issued a 3-day ultimatum demanding the removal of Rohingya groups,citing constant security threats.They warned that Myanmar’s internal civil war must not spill into Bangladesh.A BNP-nominated MP candidate was present to calm tensions pic.twitter.com/ZfTgvrZ7d5
— Defence research forum DRF (@Defres360) January 11, 2026
بارڈر گارڈ بنگلہ دیش (بی جی بی) بٹالین 64 کے کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل محمد زاہد الاسلام نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ مہلک گولی میانمار کی جانب سے فائر کی گئی تھی۔
واقعے کے بعد مشتعل شہریوں نے کاکس بازار، ٹیکناف شاہراہ کو تقریباً 3 گھنٹے کے لیے بند کر دیا، جس سے ٹریفک مکمل طور پر معطل ہو گئی۔ احتجاج کے دوران بعض گاڑیوں کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ صورتحال پر قابو پانے کے لیے فوج، پولیس، نیوی، بی جی بی اور آرمڈ پولیس بٹالین کی اضافی نفری تعینات کی گئی۔

مقامی سیاسی رہنماؤں اور انتظامیہ کی مداخلت کے بعد دوپہر ڈیڑھ بجے کے قریب سڑک دوبارہ ٹریفک کے لیے کھول دی گئی۔
حکام کے مطابق یہ واقعہ میانمار کے رخائن ریاست میں جاری جھڑپوں کے تناظر میں پیش آیا، جہاں اراکان آرمی اور روہنگیا مسلح گروہ کے درمیان حالیہ دنوں میں لڑائی شدت اختیار کر گئی ہے۔ سرحد پار سے ہونے والی شدید فائرنگ کے باعث بنگلہ دیشی سرحدی علاقوں میں کئی دنوں سے خوف و ہراس پھیلا ہوا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش: میانمار اسمگل کی جانے والی سیمنٹ کی ڈیڑھ ہزار بوریاں ضبط، 22 افراد گرفتار
پولیس کا کہنا ہے کہ ٹیکناف میں صورتحال فی الحال قابو میں ہے، تاہم سرحدی آبادی میں تشویش برقرار ہے۔ سیاسی رہنماؤں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ شہریوں کے تحفظ کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں اور میانمار کی داخلی کشیدگی کے اثرات کو بنگلہ دیش تک پھیلنے سے روکا جائے۔













