اسرائیلی جنگ کے باعث شدید سردی، گھروں سے محرومی اور بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی نے غزہ میں انسانی المیے کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
الجزیرہ کے مطابق 2 ماہ کا شیرخوار بچہ محمد ابو حربید شدید سردی (ہائپوتھرمیا) کے باعث جاں بحق ہو گیا۔ وزارتِ صحت کے شعبۂ معلومات کے ڈائریکٹر ظاہر الوحیدی کے مطابق بچے کا انتقال الرنتیسی چلڈرن اسپتال میں ہوا۔
ان کا کہنا ہے کہ نومبر 2025 سے اب تک غزہ میں سردی سے جاں بحق ہونے والے بچوں کی تعداد 4 ہو گئی ہے، جبکہ اکتوبر 2023 سے جاری جنگ کے آغاز کے بعد یہ تعداد 12 تک پہنچ چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: غزہ میں طوفانی بارش اور سردی سے 3 بچوں سمیت 16 افراد جاں بحق
ساحلی پٹی میں شدید بارشوں اور سرد ہواؤں نے بے گھر خاندانوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ ہزاروں متاثرہ افراد خیموں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، جہاں سب سے زیادہ نقصان بچوں اور زخمیوں کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔
بغیر بیٹری کے انکیوبیٹرز، نوزائیدہ بچوں کی جانیں خطرے میں
نصیرات پناہ گزین کیمپ میں واقع العودہ اسپتال کے نوزائیدہ وارڈ میں حالات تشویشناک ہیں۔ اسپتال عملے کے مطابق روزانہ اوسطاً 17 بچے لائے جا رہے ہیں، مگر طبی آلات کی شدید کمی ہے۔ طبی اہلکار احمد ابو شعیرا کا کہنا ہے کہ بعض انکیوبیٹرز بیٹری کے بغیر آتے ہیں، جبکہ بجلی کی بار بار بندش کے باعث بچوں کو مطلوبہ درجہ حرارت برقرار رکھنا ممکن نہیں رہتا۔
یہ بھی پڑھیے: جنگ بندی کی اسرائیلی خلاف ورزیوں سے غزہ امن معاہدے کو سنگین خطرہ ہے، قطر نے خبردار کردیا
انہوں نے بتایا کہ قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کی وجہ ماؤں کی خراب صحت ہے۔ ایسے بچے سردی کا زیادہ شکار ہوتے ہیں اور ان کی جان کو شدید خطرہ لاحق رہتا ہے۔
خیموں میں زندگی، سردی اور بارش
غزہ شہر کے مغربی علاقے میں بے گھر خاندان خیموں میں سردی اور بارش کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ کفرنا خاندان کے سربراہ نے بتایا کہ تیز ہواؤں کے دوران وہ پوری رات خیمے کے کھمبے تھامے کھڑے رہے، جبکہ پانی اوپر اور نیچے سے اندر داخل ہوتا رہا۔ بچوں میں بیماریاں پھیل رہی ہیں اور بستر تک بھیگ چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: غزہ، اسرائیل کی درجنوں امدادی تنظیموں پر پابندی، 10 ممالک کا رکاوٹیں ختم کرنے کا مطالبہ
ایک ماں نے کہا کہ ان کا خیمہ محض ‘کپڑے کا ایک ٹکڑا’ ہے جو انہیں کسی طرح بھی سردی اور بارش سے نہیں بچاتا۔ ان کی بیٹی وعد نے خواہش ظاہر کی کہ انہیں مضبوط خیمہ دیا جائے تاکہ وہ سردی سے محفوظ رہ سکیں اور دوبارہ اسکول جا سکیں۔
متاثرہ خاندانوں نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ انہیں فوری طور پر خیمے اور بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ وہ سردی سے بچ سکیں اور اپنی جانیں محفوظ رکھ سکیں۔














