کرکٹ کی بائبل کہلانے والی ’وزڈن‘ کے 2026 کا ایڈیشن ہاتھ آتے ہی اس کے مضامینِ رنگ رنگ میں سب سے پہلے پاکستان اور انڈیا کی کرکٹ کی تاریخ کے بارے میں مضمون بصد شوق پڑھا۔ یہ مضمون نامور آسٹریلین رائٹر گیڈین ہیگ نے لکھا ہے۔
اس میں انہوں نے ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ اور ایشیا کپ میں دونوں ملکوں میں تناؤ کے پس منظر میں دو طرفہ تعلقات کا جائزہ لیا ہے۔
مضمون کا آغاز نومبر 1960 میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے دورۂ بھارت کے دوران حنیف محمد کے ساتھ پیش آنے والے ناخوش گوار واقعے سے ہوتا ہے۔
ہیگ نے لکھا ہے کہ پاکستان ٹیم بروڈہ پہنچی تو 25 سالہ حنیف محمد لوگوں کی توجہ کا مرکز تھے کیوں کہ وہ انڈیا کے خلاف گزشتہ 2 ٹیسٹ سیریز میں پاکستان ٹیم کے اسٹار رہے تھے۔
فاضل مضمون نگار نے تو یہ نہیں لکھا لیکن میری دانست میں اس دورے میں حنیف محمد کی مقبولیت کی ایک وجہ 1958 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف 337 رنز کی معرکہ آرا اننگز بھی تھی جس سے ان کی شہرت کو پر لگ گئے تھے۔
معروف ادکار نصیر الدین شاہ بچپن میں کرکٹ کے دیوانے تھے۔ کھلاڑیوں کی تصاویر جمع کرنے کے شوقین اور ان کے کارناموں سے باخبر۔ حنیف محمد کی یہ تاریخی اننگز کرکٹ سے متعلق ان کی یادوں کا حصہ ہے۔
بروڈہ میں حنیف محمد کے پروانے ان کی گاڑی کے گرد جمع ہو گئے تھے اور ان کے سواگت کے لیے بے قرار تھے۔ ان میں سے ایک نوجوان ان سے ہاتھ ملانے پر مصر تھا، حنیف محمد نے اس سے اور دوسروں سے ہاتھ ملایا۔ اس کے بعد انہوں نے ہاتھ گاڑی کے اندر کیا تو وہ لہو لہان ہو چکا تھا۔ انہیں یقین تھا کہ کسی نے جان بوجھ کر ریزر بلیڈ سے ان کے ہاتھ پر چیرہ لگا دیا ہے۔
اس واقعے کی خبر پھیلی تو ہلچل مچ گئی۔ ڈاکٹر علاج معالجے میں لگ گئے۔ حنیف محمد کی والدہ پاکستان سے انڈیا پہنچیں۔ 2 ہفتے بعد حنیف محمد نے بمبئی ٹیسٹ میں 160 رنز کی اننگز کھیلی۔
حنیف محمد کے بارے میں گیڈین ہیگ کا بیان یہاں ختم ہو جاتا ہے لیکن ہمیں ان حوالوں سے جن کا اس میں تذکرہ ہے نئے زاویوں سے بات کرنے کی راہ سجھا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کتابوں کا عاشق افسانہ نگار
اس سلسلے میں سب سے پہلے نامور تاریخ دان اور دانش ور رام چندر گوہا کی کرکٹ کے بارے میں وقیع تصنیف ’اے کارنر آف اے فارن فیلڈ‘ سے رجوع کرتے ہیں جس میں بتایا گیا ہے کہ پاکستانی اخبارات نے فرقہ ورانہ ذہنیت کے حامل اس بد راہ کی سخت مذمت کی تھی جس نے مصافحے کی آڑ میں حنیف محمد کا ہاتھ زخمی کیا تھا۔
گوہا اس واقعے کے قلابے تاریخ سے جوڑنے کے لیے یہ دور کی کوڑی لائے کہ گجرات میں بروڈہ شہر کی بنیاد مرہٹہ جنگجوؤں نے رکھی تھی جو شیوا جی کے پیروکار تھے جس نے مسلمان جرنیل افضل خان کو قتل کیا تھا۔ وہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا اس کرکٹ فین نے یہ گمراہ کن انسپریشن مرہٹہ ہیرو سے حاصل کی تھی اور کیا اسے امید تھی کہ وہ اس طرح سے دوسری ٹیم کے سب سے خطرناک کھلاڑی کو ٹیسٹ میچز سے باہر کر دے گا؟
گوہا نے ناگ پور کے شہری راجندر کمار کے ڈان اخبار میں شائع ہونے والے خط کا چنیدہ حصہ نقل کیا ہے۔ مکتوب نگار کھلے دل و دماغ کے انسان ہیں۔ انہیں پہلے تو حنیف محمد کے چرکے کو سوچا سمجھا منصوبہ تسلیم کرنے میں ہی تأمل ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ خیال بھی پیش کیا کہ بالفرض محال اسے سوچی سمجھی ’سازش’ مان بھی لیا جائے تب بھی پاکستانی عوام کو کسی کے انفرادی حیثیت میں کئے گئے پاگل پن کو معیار بنا کر عام انڈین شائقینِ کرکٹ کو نہیں پرکھنا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ حنیف محمد انڈیا کے شائقین کی ڈارلنگ ہیں اور پاکستانی ٹیم کے ہر رکن کو عوام کی نظروں میں ہیرو کا مقام حاصل ہے۔ وہ پاکستان ٹیم کی انڈیا میں پذیرائی کی مثال دیتے ہیں جو ان کی دانست میں مہمان ٹیم کے بارے میں خیر سگالی کے عمومی جذبات کی آئینہ دار ہے۔ ان کے نزدیک اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ تھا کہ اسی سال اولمپک میں ہاکی مقابلوں کے فائنل میں شکست کھانے کے بعد انڈیا کے شائقین اس بات پر خوش تھے کہ انہیں اس اعزاز سے کسی اور ٹیم نے نہیں بلکہ پاکستان نے محروم کیا تھا۔
گوہا کے خیال میں شاید اکثریت کے جذبات ایسے ہی تھے لیکن حنیف کی انگلی پر وار پاگل پن کی واحد مثال نہیں تھی، انڈیا کے مسلمان کھلاڑی عباس علی بیگ کو ایسے زہریلے خطوط موصول ہوئے جن میں کہا گیا تھا کہ وہ پاکستانی بولروں سے جان بوجھ کر آوٹ ہوئے تھے۔
اس واقعے کے باوجود اندازہ کرنا مشکل نہیں کہ بروڈہ میں حنیف محمد کتنے مقبول تھے۔ انڈین شائقین میں ان کی مقبولیت کی ایک اور جھلک پونا میں بھی نظر آتی ہے جہاں کمبائنڈ یونیورسٹیز کے خلاف ان کا کھیل دیکھنے کے لیے بڑی تعداد میں تماشائی امڈ آئے تھے۔
رام چندر گوہا نے لکھا ہے اس میچ میں گیٹ منی کی مد میں انتظامیہ کو 80 ہزار روپے کی آمدن ہوئی جو اس دور کے اعتبار سے ایک خاطر خواہ رقم بنتی ہے۔ اس میچ میں حنیف محمد نے 222 رنز کی جارحانہ اننگز کھیل کر تماشائیوں کے پیسے پورے کردیے تھے۔
ایک مقامی شاعر نے حنیف محمد کے لیے اردو میں نظم بھی لکھی تھی ۔
مزید پڑھیے: چندی گڑھ میں لاہوری
گوہا نے لکھا ہے کہ بمبئی ٹیسٹ میں ان کی اننگز کو چالیس ہزار تماشائیوں نے دیکھا اور حنیف محمد کے پرستاروں نے ان کی بیٹنگ دیکھنے کی خاطر بلیک میں مہنگے داموں ٹکٹ بھی خریدے تھے۔
حنیف محمد کے چھوٹے بھائی مشتاق محمد بھی اس ٹیسٹ میچ میں پاکستان ٹیم کا حصہ تھے۔ انہوں نے اپنی کتاب ’انسائیڈ آؤٹ‘ میں لکھا ہے کہ اس ٹیسٹ میں اسٹیڈیم میں جو ماحول تھا وہ انہوں نے پہلی کبھی نہیں دیکھا تھا۔ اسٹیڈیم میں کوئی سیٹ خالی نہیں تھی،اس لیے لوگوں کو باؤنڈری لائن سے باہر گھاس پر بیٹھ کر بھی میچ دیکھنا پڑا۔
دل چسپ بات یہ ہے کہ حنیف محمد نے یہاں بھی اپنے چاہنے والوں کو مایوس نہیں کیا اور 160 رنز کی وہ شان دار اننگز کھیلی جس کا چرچا ہمیشہ ہوتا رہا۔ میچ سے پہلے حنیف محمد کے ہاتھ کا زخم تو مندمل ہو گیا تھا لیکن پونا میں ڈبل سنچری کے دوران ان کے پاؤں کے انگوٹھے اس بری طرح مجروح ہوئے تھے کہ ناخن نکالنا پڑے۔
ٹیسٹ میچ سے پہلے ڈاکٹر کی رپورٹ کے مطابق وہ 40 فی صد فٹ تھے۔ اس حالت میں میچ کھیلنا ممکن نہیں تھا۔ ٹیم منیجر ڈاکٹر جہانگیر خان کا بھی یہی خیال تھا لیکن کپتان فضل محمود پر انڈیا سے ہار کا خوف مسلط تھا سو ان کے لیے حنیف کے بغیر میدان میں اترنے کا تصور ہی محال تھا۔
اس صورت حال میں انہوں نے حنیف محمد کی والدہ سے جن کی وہ بہت عزت کرتے تھے درخواست کی کہ وہ بیٹے کو ٹیسٹ میچ کھیلنے کے لیے راضی کریں، حنیف نے انہیں اپنی تکلیف سے آگاہ کیا اور بتایا کہ ان کے لیے بوٹ پہننا ہی ممکن نہیں، اس موقعے پر ان کی والدہ نے ملک کی خاطر میدان میں اترنے کو کہا تو وہ مان گئے۔
اس لیے ٹیسٹ میچ کھیلنے میں ان کے ہاتھ پر اوچھے وار کا بھی کردار تھا کیوں کہ اسی کی وجہ سے ان کی والدہ کو انڈیا جانا پڑا تھا اور حنیف محمد کے اس ٹیسٹ میچ میں کھیلنے کا کریڈٹ انہی کے سر جاتا ہے۔ اننگز کے دوران ان کی جرابیں خون سے بھرتی رہیں اور وہ وقفے وقفے سے انہیں تبدیل کرتے رہے۔
پاؤں کا درد ہی کیا کم آزار تھا کہ اوپر سے گھنٹے کے پیچھے پٹھا اکڑنے سے درد اور بھی سوا ہوگیا۔ اس پر مزید یہ کہ انڈین کپتان ناری کنٹریکٹر نے حنیف محمد کے لیے رنر لینے کی اجازت نہیں دی۔ وہ بلے باز جو ان فٹ ہو کر بھی حریف باؤلروں کے لیے درد سر بنا ہوا تھا۔ اسے ریلیف دینے کا رسک لینے کو وہ تیار نہیں تھے۔
بہرحال انڈین باؤلر حنیف محمد کو چت نہ کر سکے اور وہ رن آؤٹ ہو کر پویلین واپس لوٹے۔ اتنے رنز بٹورنے کے بعد بھی ان کو آوٹ ہونے کا رنج تھا۔ ان کے خیال میں انہیں آؤٹ دینے کا فیصلہ منصفانہ نہیں تھا۔ اس اننگز کو وہ اپنی بہترین اننگز میں سے ایک قرار دیتے ہیں۔
اس اننگز کی تعریف ایک زمانہ کرتا ہے۔ ان میں سنیل گواسکر کے کرکٹ گرو واسو پرانجپے بھی شامل ہیں جو بمبئی میں ہونے والے ٹیسٹ میچ ہمیشہ بڑے شوق سے دیکھتے تھے۔ انہوں نے ایک انٹرویو میں کرکٹ سے جڑے اپنے مشاہدات بیان کئے تو اس میں حنیف محمد کی اس اننگز کی جی کھول کر تعریف کی تھی۔
ان کے بقول ’یہ ایک پرفیکٹ سنچری تھی۔ حنیف نے لوگوں کو بتایا کہ بیٹنگ کس طرح کی جاتی ہے‘۔
حنیف محمد کی بیٹنگ کے قصے واسو پرانجپے اپنے شاگردوں کو بھی سنایا کرتے تھے، ان میں سے لائق ترین شاگرد سنیل گواسکر ثابت ہوئے جنہوں نے یہ قصہ سن رکھا تھا کہ ایک دفعہ وہ چرچ گیٹ اسٹیشن سے پیدل ٹیسٹ میچ دیکھنے جارہے تھے، بیریبون کرکٹ گراؤنڈ کے قریب پہنچنے پر انہیں بلے کے درمیان میں گیند لگنے کی ٹھک سے آواز آئی تو انہیں معلوم ہو گیا کہ حنیف محمد ابھی کھیل رہے ہیں، اندر جا کر ان کا اندازہ درست ثابت ہوا۔
سنیل گواسکر نے ایک گفتگو میں حنیف محمد کو شاندار خراج تحسین پیش کیا تو بتایا کہ پہلے دن جب حنیف صاحب نے 128 رنز بنائے تھے تو اس دن کا کھیل تو وہ نہیں دیکھ سکے لیکن ٹیسٹ میچ کے دوسرے دن انہوں نے حنیف محمد کو اپنے گزشتہ دن کے سکور میں 32 رنز کا اضافہ کرتے دیکھا تھا۔
گواسکر نے بتایا کہ حنیف صاحب گیند کو کھیلنے کے لیے تیار ہونے سے پہلے بلے کو مخصوص انداز میں تیزی سے گھماتے تھے، گواسکر نے ان کی ریس کرنے کی کوشش کی لیکن وہ ناکام رہے۔ سنیل گواسکر اور حنیف محمد کا تذکرہ ہے تو ان کے ذاتی تعلقات کی تاریخ بھی کچھ بیان ہوجائے۔
حنیف محمد نے اپنی کتاب ’پلیئنگ فار پاکستان‘ میں بلے باز کی حیثیت سے گواسکر کی بڑی تعریف کی ہے جنہوں نے 70 اور 80 کی دہائی میں ویسٹ انڈیز کے باؤلروں کے خلاف 13 ٹیسٹ سنچریاں بنائی تھیں۔
حنیف محمد نے لکھا ہے کہ ایک دفعہ لندن میں ہیتھرو ایئر پورٹ پر ایک صاحب نے انہیں دیکھا اور انہیں ملنے کے لیے چلے آئے اور انہیں حنیف صاحب کہہ کر مخاطب کیا، وہ فوری طور پر انہیں پہنچاننے سے قاصر رہے تو انہوں نے سنیل گواسکر کہہ کر اپنا تعارف کروایا۔
حنیف محمد اس رویے سے بہت خوش ہوئے کہ ایک عظیم کھلاڑی ان کو ملنے کے لیے آیا ہے ۔اس کے بعد دونوں کئی دفعہ ملے۔ 1982 میں گواسکر پاکستان کے دورے پر اپنے بیٹے روہن کے ساتھ آئے تو حنیف محمد کے چھوٹے بیٹے شاہزیب کے ساتھ اس کی دوستی گئی۔
بڑے بیٹے کی بھی سن لیں۔ شعیب محمد نے 1983 میں جالندھر میں انڈیا کے خلاف ٹیسٹ کریئر کا آغاز کیا تو حریف ٹیم میں سنیل گواسکر شامل تھے۔ 4 سال بعد چنئی میں اپنی پہلی ٹیسٹ سنچری بنائی تب بھی گواسکر انڈین ٹیم کا حصہ تھے۔
2013 میں حنیف محمد کینسر کے علاج کے سلسلے میں لندن میں تھے تو گواسکر نے فون پر ان کی خیریت دریافت کی۔ حنیف محمد اس خبر گیری سے بہت متاثر ہوئے۔ کہا کہ گواسکر پہلے نمبر پر لٹل ماسٹر ہیں میرا نمبر دوسرا ہے۔
رام چندر گوہا نے ’اے کارنر آف اے فارن فیلڈ‘ کو جس واقعہ پر ختم کیا ہے اس کا تعلق بھی حنیف محمد کی 160 رنز کی اننگز سے ہے۔اس مثال کے ذریعے وہ انڈیا اور وہاں کے باسیوں پر کرکٹ کی غیر معمولی گرفت کے بارے میں بتانا چاہتے ہیں۔
یہ حکایت لذیذ تر مجھے اس قدر مرغوب ہے کہ میں اسے پہلے بھی نقل کرچکا ہوں لیکن اس مضمون کا اس سے بہتر ‘ اینڈ’ کچھ اور نہیں ہو سکتا سو اسے دہرانے پر مجبور ہوں:
بات کچھ اس طرح سے ہے کہ رام چندر گوہا نے معروف سوشلسٹ رہنما ڈاکٹر رام منوہر لوہیا کے بارے لکھا ہے کہ انھیں کرکٹ سے کَد تھی ۔ وہ اسے نو آبادیاتی دور کی یادگار گردانتے تھے۔
مزید پڑھیں: لاہور پر ’مغل اعظم‘ کی یلغار
1960 میں پاکستان کرکٹ ٹیم انڈیا کے دورے پر گئی تو بمبئی ٹیسٹ کے دوران جہاں ایک طرف ہزاروں تماشائی اسٹیڈیم میں میچ دیکھ رہے تھے، دوسری طرف رام منوہر لوہیا پریس کانفرنس میں نہرو کے ساتھ ساتھ کرکٹ پر برس رہے تھے ۔
ان کا خیال تھا کہ نہرو کی چھٹی ہوجائے تو پھر سب خوشی خوشی کبڈی کھیلنا شروع کردیں گے۔
پریس کانفرنس کے بعد صحافی تتر بتر ہوگئے اور لوہیا ہوٹل سے باہر آئے۔ قریب میں پان کی دکان پر پہنچے، پان لیا اور پھر اسے چباتے ہوئے دکان دار سے پوچھا :’حنیف آﺅٹ ہوگیا کیا؟‘
اس سوال کا جواب انہیں نفی میں ملا تھا۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔










