ایران کے ساتھ امریکا حالتِ جنگ میں ہے، خطے میں اضطراب کی سی کیفیت پائی جاتی ہے۔ کوئی کہہ رہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کا نقشہ بدلنے والا ہے اور کسی کا خیال ہے کہ امریکہ کا یک قطبی نظام منہدم ہونے والا ہے۔
اس بات پر تقریباً سبھی متفق ہیں کہ دنیا اپنے عہد کی ایک مشکل ترین تزویراتی صورتِ حال سے دوچار ہے لیکن اس سب کے باوجود ڈونلڈ ٹرمپ کے وفد میں عسکری شعبے یا امورِ خارجہ کے ماہرین کے بجائے کاروباری شخصیات نمایاں ہیں۔
یوں محسوس نہیں ہوتا کہ ایک عالمی قوت کا سربراہ جنگ کے دوران کسی دوسری عالمی طاقت کا دورہ کر رہا ہے، بلکہ وفد کے ارکان کو دیکھ کر لگتا ہے جیسے امریکی صدر اپنے کاروباری مشیروں کے ساتھ ڈیوس سمٹ میں شرکت کے لیے جا رہے ہوں۔ سوال بہت سے ہیں، لیکن اہم ترین سوال یہ ہے کہ کیا اس صورتِ حال میں ہمارے سیکھنے کے لیے بھی کچھ ہے؟
ذرا امریکی صدر کے ہم سفر حضرات پر ایک نظر ڈالیے۔ ایلون مسک، جو ٹیسلا کے مالک ہیں۔ جینسن ہوانگ، جو انویڈیا کارپوریشن کے سربراہ ہیں۔ ٹم کک، جو ایپل کے سی ای او ہیں۔ لیری فنک، جو بلیک راک کے سی ای او ہیں۔ سٹیفن شوارٹزمین، جو بلیک اسٹون کے سربراہ ہیں، اور کیلی اورٹبرگ، جو بوئنگ کے سی ای او ہیں۔
ٹرمپ کے ساتھ جانے والا یہ وفد اگر مکمل طور پر کاروباری وفد نہیں بھی، تو اس کا غالب تعارف کاروباری شخصیات ہی ہیں۔
اس کی بہت ساری وجوہات ہو سکتی ہیں اور ان پر تفصیلی بحث بھی ہو سکتی ہے، لیکن یہ آج کا موضوع نہیں۔ آج کا موضوع یہ ہے کہ کیا اس سارے عمل میں ہمارے سیکھنے اور سمجھنے کے لیے بھی کچھ موجود ہے؟
فرض کیجیے کہ کوئی پاکستانی صدر یا وزیرِ اعظم چین جا رہا ہوتا اور اس کے وفد میں بھی اسی طرح کاروباری شخصیات کا غلبہ ہوتا۔ ایک لمحے کے لیے آنکھیں بند کریں اور تصور کریں کہ وطنِ عزیز میں کیسے کیسے تجزیے کیے جا رہے ہوتے اور کیسا طوفان کھڑا ہو چکا ہوتا کہ جنگ کا عالم ہے اور صدر یا وزیرِ اعظم کو مالی مفادات کی پڑی ہوئی ہے، یا یہ کاروباری شخصیات کے مفاد کو قومی مفاد پر ترجیح دے رہا ہے۔
یاد رہے کہ ایلون مسک نے ٹرمپ کی حالیہ انتخابی مہم کے دوران تقریباً 280 ملین ڈالر کی فنڈنگ کی تھی۔ اب فرض کریں کہ ایسی ہی کوئی شخصیت کسی پاکستانی صدر یا وزیرِ اعظم کے ساتھ بھی گئی ہوتی، جس نے ان کے انتخابات میں مالی معاونت کی ہوتی، تو پاکستان میں کیا صورتِ حال ہوتی؟ میڈیا کے سینئر اور جونیئر تجزیہ کار مل کر کیسی سینہ کوبی کر رہے ہوتے کہ صدر اور وزیرِ اعظم نے اپنے کاروباری دوستوں کو نواز دیا، ملکی مفاد کا سودا کر لیا، وغیرہ وغیرہ۔
ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنی معیشت بھی بہتر کرنا چاہتے ہیں، خوش حال بھی ہونا چاہتے ہیں، اچھی، معیاری اور سستی چیزیں بھی چاہتے ہیں، لیکن سرمایہ دار ہمیں اچھے نہیں لگتے۔ ہم سرمایہ دار سے نفرت کرنا بھی لازم سمجھتے ہیں۔ ’سیٹھ‘ کے لفظ کو ہم نے گالی بنا دیا ہے۔
اگر کوئی حکمران کاروباری پس منظر رکھتا ہو تو بھی ہمیں اچھا نہیں لگتا۔ ہم طعنہ دیتے ہیں کہ یہ تو کاروباری آدمی ہے، اسے آدابِ جہاں بانی کیا معلوم۔
میں اکثر میڈیا کے دوستوں کو دیکھتا ہوں۔ جب وہ آزادیِ صحافت کی بات کرتے ہیں تو “کارکن صحافی” کے فضائل بیان کرتے ہوئے “میڈیا کے سیٹھوں” کو طعنہ دینا نہیں بھولتے۔ انہیں اس بات کا احساس ہی نہیں ہوتا کہ یہی ’سیٹھ‘ ہوتے ہیں جن کی وجہ سے نئے نئے میڈیا آؤٹ لیٹس قائم ہوتے ہیں اور کارکن صحافی کو روزگار ملتا ہے۔
اگر سیٹھ نہ ہو تو کارکن صحافی کیا کر لے گا؟ کارکن صحافیوں نے سیٹھ کے بغیر کوئی ایک کامیاب میڈیا پلیٹ فارم متعارف کرایا ہو تو بتائیے۔
توازن، اعتدال اور سلیقہ تو موجود ہی نہیں۔ بس جس کے پاس دولت دیکھی، اس سے نفرت کرنا ہمارا عمومی رویہ بن چکا ہے۔ ہم نے یہ اصول طے کر لیا ہے کہ جس کے پاس پیسہ ہے، وہ لازماً کرپٹ ہے۔
اچھا اور مثالی میڈیا مالک ان کی نظر میں وہ ہے جو سیٹھ بھی نہ ہو، دفتر آنے کے لیے ایک پرانی گاڑی استعمال کرتا ہو، کپڑے بغیر استری کے پہنتا ہو، لیکن کارکن صحافیوں کو تنخواہیں وقت پر دے، پنشن بھی دے، مراعات بھی دے، میڈیکل بل بھی ادا کرے اور دفاتر بھی ایسے شاندار اور پرتعیش بنا کر دے کہ کارکن صحافی کا دل خوش ہو جائے۔
خیالِ خاطرِ احباب اپنی جگہ، لیکن جناب! یہی سوچ تباہی کی ایک بڑی وجہ بنی ہے۔
آپ دبئی کو دیکھ لیجیے۔ کیا وہاں کبھی کسی سے پوچھا جاتا ہے کہ یہ دولت کہاں سے لائے ہو؟ ہم اکثر سنتے ہیں کہ فلاں فلاں کے پیسے سوئس بینکوں میں ہیں۔ تو سوئٹزرلینڈ جیسا مہذب ملک کیا کبھی اپنے بینکوں میں آنے والی رقوم پر یہ تفتیش کرتا ہے کہ یہ پیسہ کہاں سے آیا، کیسے کمایا گیا اور اپنے ملک کے بینکوں کے بجائے یہاں کیوں رکھا جا رہا ہے؟
یہ صرف ہمارے ہاں ہوتا ہے کہ کوئی باہر سے سرمایہ بھی لائے تو اسے کٹہرے میں کھڑا کر دیا جاتا ہے کہ پہلے یہ بتاؤ، یہ پیسہ کہاں سے لائے ہو۔
سرمائے کی اپنی نفسیات ہوتی ہے۔ خوف اور سرمایہ ایک ساتھ نہیں رہ سکتے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ پاکستان سے سرمایہ باہر جانا شروع ہو جاتا ہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ سرمایہ باہر کیسے جاتا ہے، اور یہ سوال یقیناً اہم ہے، لیکن اس سے بھی اہم سوال یہ ہے کہ آخر جاتا ہی کیوں ہے؟
پاکستان کا ماحول سرمایہ کاری کے لیے اتنا سازگار کیوں نہیں کہ سرمایہ دار کو اپنا پیسہ باہر لے جانے کا خیال ہی نہ آئے؟
ہم نے ایک ایسا ماحول بنا رکھا ہے جو صرف افسر شاہی کے لیے سازگار ہے۔ اقوامِ متحدہ کے افسران کو بھی شاید اتنی مراعات حاصل نہیں ہوں گی جتنی ہماری بیوروکریسی کو حاصل ہیں۔ امریکہ کا صدر 147 کنال کے وائٹ ہاؤس میں رہتا ہے، جبکہ سرگودھا کا کمشنر 104 کنال کے محل نما گھر میں۔
تاجروں کے لیے کسی شہر میں کوئی خاص مراعات نہیں، لیکن افسر شاہی کے لیے ہر شہر میں کلب موجود ہیں۔
مراعات اور عزت کے جھرنوں پر ہم نے صرف افسر شاہی کو بٹھا رکھا ہے۔ سرمایہ دار ہمیں اچھا نہیں لگتا۔ “سیٹھ” کا لفظ ہم طعنے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا ان رویّوں کے ساتھ معیشت واقعی ٹھیک ہو سکتی ہے؟
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













