سیاست میں صنفی مساوات کے لیے 130 برس درکار ہیں، شیری رحمان کا ہاؤس آف لارڈز سے خطاب

پیر 12 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان پیپلز پارٹی کی نائب صدر اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کی چیئرپرسن شہری رحمان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں سیاست میں صنفی مساوات کے لیے 130 برس درکار ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: شیری رحمان کا سڈنی حملے میں بھارتی روابط پر اظہارِ تشویش، ایف اے ٹی ایف سے تحقیقات کا مطالبہ

برطانیہ کے ہاؤس آف لارڈز میں پیر کو منعقد ہونے والے یو کے فورم برائے ثقافتی سفارت کاری میں شیری رحمان نے خواتین کی سیاست میں شمولیت پر ایک مؤثر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیاسی نمائندگی کے حوالے سے حقائق مایوس کن ہیں۔

عالمی اعداد و شمار کی بنیاد پر ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں خواتین پارلیمانی نشستوں کا صرف 27.2 فیصد رکھتی ہیں اور صرف 29 ممالک میں خواتین بطور سربراہ ریاست یا حکومت خدمات انجام دے رہی ہیں۔

شیری رحمان کا کہنا تھا کہ موجودہ رفتار کے مطابق سیاسی قیادت میں صنفی مساوات حاصل ہونے میں 130 سال سے زائد وقت لگے گا۔

انہوں نے عالمی سیاسی نظاموں پر زور دیا کہ وہ صرف جشن منانے سے آگے بڑھیں اور حقیقی ساختی تبدیلی لائیں۔

شیری رحمان کا کہنا تھا کہ سیاست میں خواتین 3 اہم کردار ادا کرتی ہیں جن میں موجودہ صورتحال کا جائزہ لینا، یہ سمجھنا کہ خواتین سیاست سے کیا توقع رکھتی ہیں اور معاشروں کو بدل سکنے والے اجتماعی ایجنڈے کی تشکیل شامل ہیں۔

کوویڈ 19 کی عالمی وبا کے دوران خواتین سربراہان مملکت کی شاندار کارکردگی

شیری رحمان نے کہا کہ جب خواتین قیادت کرتی ہیں وہ مختلف سوالات اٹھاتی ہیں، نئی ترجیحات مقرر کرتی ہیں اور تعاون، شمولیت اور عوام مرکوز حکمرانی کا ماڈل پیش کرتی ہیں۔

مزید پڑھیے: جانیں چرواہے نے بچائیں مگر تعریف وارننگ سسٹم کی، شیری رحمان تنقید کی زد میں کیوں ہیں؟

انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ کوویڈ 19 کے دوران خواتین کی قیادت والے ممالک نے تیزی سے لاک ڈاؤن کیا، واضح پیغامات دیے اور مردوں کی قیادت والے ممالک کے مقابلے میں اوسطاً آدھا جانی نقصان بچالیا۔

شیری رحمان نے بینظیر بھٹو کی قیادت پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے انہیں ’ایک آئیکونک لیڈر‘ قرار دیا جنہوں نے مسلمان اکثریتی ممالک میں پہلی خاتون وزیر اعظم بن کر خواتین کی قیادت کے لیے راہ ہموار کی۔

انہوں نے کہا کہ بیجنگ کانفرنس 1995 میں بینظیر بھٹو نے خواتین کے حقوق کے لیے ایک انقلابی پلیٹ فارم پر دستخط کیے۔

شیری رحمان نے خبردار کیا کہ جیسے جیسے تنازعات بڑھ رہے ہیں اور کثیرالطرفہ تعاون کمزور ہو رہا ہے، حقوق کی حفاظت دنیا بھر میں کمزور ہو رہی ہے۔

پاکستان میں خواتین کی قیادت کی شاندار کارکردگی

شیری رحمان نے پاکستان میں خواتین کی پارلیمانی قیادت اور چیلنجز پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ پاکستان کی پارلیمنٹ میں خواتین کی تعداد صرف 17 فیصد ہے لیکن گزشتہ سال خواتین پارلیمنٹیرین نے پارلیمانی کام کا تقریباً 50 فیصد حصہ مکمل کیا جسے انہوں نے خواتین کے غیر مرئی کیئر اکنامی اور عوامی محاذ پر اضافی محنت کی عکاسی قرار دیا۔

مزید پڑھیں: کیا ہمیں حق حاصل نہیں کہ شفاف قانون سازی کریں؟ شیری رحمان کا سینیٹ میں اظہار خیال

انہوں نے اپنی قانون سازی کی جدوجہد کا ذکر کیا سنہ 2002 سے اب تک 5 اہم بل منظور کرائے جن میں خواتین کی سیاسی جماعتوں میں شرکت کو لازمی بنانا، ورک پلیس ہراسمنٹ ایکٹ، کم عمری کی شادی کی روک تھام کا قانون (9 سال کی جدوجہد کے بعد) اور گھریلو تشدد قانون (21 سال کی کوشش کے بعد) شامل ہیں۔

انہوں نے پاکستان میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے خواتین کے لیے کی جانے والی سماجی تحفظ کی کامیابیاں بھی بیان کیں جس میں نقد رقم براہِ راست خواتین کے اکاؤنٹس میں منتقل کر کے انہیں گھریلو اور کمیونٹی سطح پر بااختیار بنایا جاتا ہے۔

شیری رحمان نے خواتین قانون سازوں کے خلاف عالمی سطح پر ہراسگی میں اضافے پر بھی تشویش ظاہر کی کہ 5 خطوں میں 82 فیصد خواتین پارلیمنٹیرین ہراسگی کا شکار ہیں جن میں دھمکیاں، موبنگ اور ڈیجیٹل تشدد شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ تقریباً 44 فیصد کو آن لائن جان یا حملے کی دھمکیاں ملتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ میری فکر نوجوان خواتین کے لیے ہے جو اس ڈیجیٹل دشمنی کا وارث بن رہی ہیں۔

شیری رحمان نے کہا کہ ساختی استثنیٰ اور نسوانیت مخالف رویے کو ختم کرنے کا کوئی جادوئی حل نہیں ہے تاہم ہمیں سنا جانا لازمی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: شیری رحمان کا ترقی پذیر ممالک کے لیے عالمی برادری سے اہم مطالبہ

انہوں نے کہا کہ تبدیلی کی ایک قیمت ہے اور ہم سیاسی استقامت اور یکجہتی کے ساتھ اسے ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہماری بہنیں اور بہت سے بھائی ہمارے ساتھ ہیں اور یہ یکجہتی ہماری سب سے بڑی طاقت ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی سپلائی میں تعطل کا خدشہ نہیں، وزیر خزانہ کی زیر صدارت اجلاس کو بریفنگ

مسجد اقصیٰ کے دروازے 14 روز سے بند ہیں، طاہر اشرفی نے عالم اسلام سے کردار ادا کرنے کی اپیل کردی

دہشتگرد افغان حکومت نے سرخ لکیر عبور کرلی، صدر مملکت کی شہری علاقوں پر ڈرون حملوں کی مذمت

پاکستان اور سعودی عرب یک جان دو قالب ہیں، وزیر مذہبی امور سردار یوسف

افغان طالبان کا پاکستان کی کچھ چوکیوں پر قبضے کا دعویٰ من گھڑت ہے، وزارت اطلاعات

ویڈیو

مہنگائی نے عوام کا جینا مشکل کردیا، حکومت نے پیٹرول کی قیمت پہلے ہی کیوں بڑھائی؟

اسٹریس اور ذہنی دباؤ سے نجات کے لیے سجدہ ایک بہترین روحانی اور نفسیاتی ذریعہ

یوتھ کلائمیٹ کیٹالسٹس، نوجوانوں کے ٹیکنالوجی سے بھرپور حیرت انگیز اقدامات

کالم / تجزیہ

دوستی کا نیا چراغ

درگاہ گاجی شاہ اور جن نکالنے کے کرتب

اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے