فرانسیسی کسانوں نے یورپی یونین اور جنوبی امریکی تجارتی بلاک مرکوسور کے درمیان متوقع تجارتی معاہدے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے منگل کے روز تقریباً 350 ٹریکٹر پیرس میں داخل کر دیے۔
خبر رساں ادارے بی ایف ایم ٹی وی کے مطابق کسانوں نے علی الصبح مختلف موٹرویز کو بلاک کیا اور بعد ازاں ٹریکٹروں کے قافلوں کی صورت میں پیرس پہنچے۔ مظاہرین مرکوسور معاہدے کی مخالفت کے ساتھ ساتھ اپنی روزمرہ زندگی میں انتظامی پیچیدگیوں میں کمی کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: ڈنمارک، برطانیہ اور فرانس نے ٹرمپ کی گرین لینڈ پر دعوے کی مخالفت
فرانس کی سب سے بڑی زرعی یونین ایف این ایس ای اے کے نائب صدر لوک سمیسارٹ نے بی ایف ایم ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ کسان اس وقت تک پیرس میں رہیں گے جب تک ان کے مطالبات کو سنا نہیں جاتا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر وزیر اعظم سے ملاقات نہ ہوئی تو احتجاج غیر معینہ مدت تک جاری رکھا جا سکتا ہے اور ضرورت پڑی تو مظاہرین پورے پیرس میں پھیل جائیں گے۔
کسانوں کی بڑی تعداد قومی اسمبلی کے باہر جمع ہو گئی، جس کے بعد اسمبلی کی صدر یائل برون پیوے نے ان سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب چند روز قبل ایک مظاہرے کے دوران انہیں مستعفی ہونے کے نعرے بھی سننے پڑے تھے۔
یہ بھی پڑھیے: فرانس میں ’بلاک ایوری تھنگ‘ مظاہرے، ہنگامہ آرائی اور تصادم
اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم سباستین لیکورنو کے دفتر میں دوپہر کے وقت کسانوں کے ایک وفد کو خوش آمدید کہا جائے گا۔
واضح رہے کہ یورپ بھر میں کسان یورپی یونین اور مرکوسور کے درمیان مجوزہ تجارتی معاہدے کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں، جس پر گزشتہ 20 برس سے بات چیت جاری ہے۔ کسانوں کا مؤقف ہے کہ یہ معاہدہ مقامی زرعی منڈیوں کو نقصان پہنچائے گا اور کسانوں کے روزگار کے ساتھ ساتھ خوراک کے معیار کو بھی خطرے میں ڈال دے گا۔
یورپی کمیشن کی صدر ارسولا فان ڈر لائن سے توقع ہے کہ وہ 17 جنوری کو پیراگوئے میں اس معاہدے پر دستخط کریں گی۔














