خواتین اوربچوں کی ڈیپ فیک تصاویر، گروک کے ’اسپائسی موڈ‘ پر پابندی

جمعرات 15 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایلون مسک کے پلیٹ فارم ایکس نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے اے آئی چیٹ بوٹ گروک کو حقیقی افراد کی تصاویر سے کپڑے ہٹانے یا انہیں نیم برہنہ دکھانے سے روکنے کے لیے اقدامات کررہا ہے۔

یہ فیصلہ خواتین اور بچوں کی جنسی نوعیت کی تصاویر بنانے پر عالمی سطح پر شدید ردِعمل کے بعد کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: خواتین اور بچوں کی نازیبا تصاویر، گروک کے خلاف دنیا بھر میں تحقیقات کا مطالبہ

ایکس نے کہا ہے کہ وہ ان تمام ممالک میں، جہاں ایسا عمل غیر قانونی سمجھا جاتا ہے، گروک اور ایکس کے تمام صارفین کی جانب سے لوگوں کی تصاویر کو ’بکنی، زیرِجامہ اور اسی نوعیت کے لباس‘ میں بنانے کی صلاحیت کو جیو بلاک یعنی علاقائی طور پر بند کر دے گا۔

ایکس کی سیفٹی ٹیم نے ایک بیان میں کہا کہ ہم نے تکنیکی اقدامات نافذ کر دیے ہیں تاکہ گروک اکاؤنٹ حقیقی افراد کی تصاویر کو بکنی یا دیگر نمایاں لباس میں ایڈٹ کرنے کی اجازت نہ دے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ پابندی تمام صارفین پر لاگو ہو گی، جن میں بامعاوضہ سبسکرائبرز بھی شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: ایکس اے آئی نے وکی پیڈیا کے مقابلے میں گروکی پیڈیا لانچ کردیا

یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب صرف چند گھنٹے قبل کیلیفورنیا کے اٹارنی جنرل نے ایلون مسک کی کمپنی ایکس اے آئی کے خلاف تحقیقات شروع کیں، جن کا تعلق حالیہ ہفتوں میں ’بغیر رضامندی کے جنسی طور پر واضح مواد‘ کی تیاری سے ہے۔

بین الاقوامی سطح پر ایکس اے آئی پر دباؤ بڑھتا جا رہا تھا کہ وہ گروک پر قابو پائے، خاص طور پر اس کے نام نہاد ’اسپائسی موڈ‘ فیچر کے بعد، جس کے ذریعے صارفین سادہ تحریری ہدایات جیسے ’اسے بکنی پہنا دو‘ یا ’اس کے کپڑے ہٹا دو‘ لکھ کر خواتین اور بچوں کی جنسی نوعیت کی ڈیپ فیک تصاویر بنا سکتے تھے۔

مزید پڑھیں: ایلون مسک کی کمپنی ایکس اے آئی نے نیا چیٹ بوٹ گروک3 لانچ کردیا

انڈونیشیا ہفتے کے روز گروک تک رسائی مکمل طور پر بند کرنے والا پہلا ملک بن گیا، جبکہ اتوار کو ہمسایہ ملک ملائیشیا نے بھی یہی قدم اٹھایا۔

بھارت نے اتوار کے روز بتایا کہ اس کی شکایات پر ایکس نے ہزاروں پوسٹس اور سینکڑوں صارف اکاؤنٹس ہٹا دیے ہیں۔

مزید پڑھیں: امریکی سول سوسائٹی گروپس کا ایکس  اور گروک کو ایپ اور پلے اسٹور سے ہٹانے کا مطالبہ

برطانیہ کے میڈیا ریگولیٹر آف کام نے اعلان کیا کہ وہ اس بات کی تحقیقات شروع کر رہا ہے کہ آیا ایکس نے جنسی نوعیت کی تصاویر کے حوالے سے برطانوی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے یا نہیں۔

فرانس کی بچوں کی کمشنر سارہ ال ہائری نے منگل کے روز کہا کہ انہوں نے گروک کی تیار کردہ تصاویر کو فرانسیسی پراسیکیوٹرز، میڈیا ریگولیٹر آرکام اور یورپی یونین کو بھیج دیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp