پاکستان نے ایران میں موجودہ کشیدگی کے تناظر میں بین الاقوامی کوششوں کی حمایت جاری رکھنے اور تعلقات مضبوط رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان ایران کی صورتحال کو قریب سے دیکھ رہا ہے اور علاقائی سطح پر امن و استحکام کے لیے تمام اقدامات کی حمایت کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:صدر مملکت آصف علی زرداری بحرین کا 3 روزہ سرکاری دورہ کریں گے، دفتر خارجہ
دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران بتایا کہ نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلی فونک رابطہ کیا، جس میں موجودہ علاقائی صورتحال اور تعاون کے امکانات پر تبادلہ خیال ہوا۔
ترجمان نے کہا کہ ایران عالمی برادری کا اہم رکن ہے اور پاکستان تنازعہ کے پرامن حل کی تمام کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔ پاکستان ایران کے ساتھ تاریخی تعلقات رکھتا ہے اور امید کرتا ہے کہ ایرانی حکومت کے عوام کے لیے اقتصادی اقدامات مفید ثابت ہوں گے۔ اس سلسلے میں دفتر خارجہ نے ٹریول ایڈوائزری بھی جاری کی ہے۔

طاہر اندرابی نے امریکہ کی طرف سے امیگریشن ویزا پر عائد سفری پابندی کے حوالے سے بھی کہا کہ پاکستان اس معاملے پر امریکی حکام سے رابطے میں ہے اور اسے ایک داخلی عمل سمجھتا ہے۔
مقبوضہ کشمیر کے مسئلے پر ترجمان نے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھے گا اور بھارتی آرمی چیف کے دہشت گردی کے کیمپس کے الزامات کی سخت مذمت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت ہمسایہ ممالک میں دہشت گردی کو فروغ دینے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ پاکستان امن اور استحکام کے لیے مثبت کردار ادا کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کی حمایت جاری، پاک چین تعلقات پر اعتماد کا اظہار،پاکستان دفتر خارجہ کی ہفت وار پریس بریفنگ
سفارتی سرگرمیوں کے حوالے سے بتایا گیا کہ وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الخلیفہ الثانی سے ٹیلی فون پر گفتگو کی، جس میں دوطرفہ تعلقات، تجارت اور مشرق وسطی کی موجودہ صورتحال پر بات ہوئی۔ وزیرِ اعظم نے قطر کی ثالثی اور مکالمے کے ذریعے امن قائم کرنے کی کوششوں کو سراہا۔
اس دوران صدر مملکت آصف علی زرداری بحرین کے سرکاری دورے پر منامہ پہنچے اور شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ سے ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تعاون، تجارت، سرمایہ کاری، دفاعی امور اور پاکستانی کمیونٹی سے متعلق معاملات پر بات چیت ہوئی۔ دورے کا مقصد دونوں ممالک کے تعلقات اور عوامی روابط کو مزید مضبوط بنانا بتایا گیا۔
طاہر اندرابی نے بتایا کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے غیر معمولی او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کی۔ انہوں نے اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کی مذمت کی۔ او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس کے غیر معمولی سیشن کی سائیڈ لائنز پر انہوں نے متعدد راہنماؤں سے ملاقاتیں بھی کیں۔ اسحاق ڈار نے جدہ میں پاکستان کی نئی چانسلری عمارت کا افتتاح بھی کیا۔
غزہ کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے ترجمان دفترِ خارجہ نے کہا کہ پاکستان غزہ پیس پلان کا حصہ ہے، جس کا مقصد جنگ بندی اور معصوم لوگوں کی جانوں کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پیس پلان کے اگلے مرحلے میں امن مزید مستحکم ہوگا۔ پاکستان 1967 کی سرحدات کے ساتھ فلسطینی ریاست کی حمایت کرتا ہے۔
افغانستان میں پھنسے ہوئے پاکستانی طلبا کے حوالے سے ترجمان نے بتایا کہ پاکستان کا سفارت خانہ متحرک ہے اور کابل میں پاکستانی سفارتی حکام متعلقہ حکام سے رابطے میں ہیں اور اقدامات کر رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ کابل میں پاکستانی سفیر کی تبدیلی سے متعلق خبریں غلط ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ایران سے پاکستانی طلبا گوادر پہنچ چکے ہیں اور ترجمان کے مطابق ایران کی صورتحال پچھلے 2 سے 3 دنوں سے بہتر ہوئی ہے۔ اندازاً بدھ کے روز 54 جبکہ اس سے پہلے 2 درجن کے قریب طلبہ ایران سے واپس پہنچ چکے ہیں، واپس آنے والے طلبہ کی تعداد پر جلد معلومات فراہم کریں گے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے افغانستان کے ساتھ تعلقات میں واضح کیا ہے کہ ان کا بنیادی مسئلہ صرف دہشتگردی ہے اور پاکستان کا مطالبہ ہے کہ افغان سرزمین کا استعمال پاکستان کے خلاف نہ ہو۔
ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان امید کرتا ہے کہ ایران موجودہ بحران پر قابو پا لے گا، اور دونوں ممالک کے ساتھ اس کے تعلقات مثبت ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ایران اور امریکا کے معاملے میں اپنا تعمیری کردار جاری رکھے گا۔













