بنگلہ دیش کرکٹ شدید بحران کا شکار ہو گئی ہے جہاں کھلاڑیوں کی جانب سے تمام طرز کی کرکٹ کے بائیکاٹ کے اعلان کے بعد ملکی ڈومیسٹک کرکٹ کا نظام مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈائریکٹر بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کا متنازعہ بیان، تمیم اقبال کے حامیوں کے احتجاجی مظاہرے
آج بنگلہ دیش پریمیئر لیگ (بی پی ایل) کا پہلا میچ، جو چٹاگانگ رائلز اور نواکھلی ایکسپریس کے درمیان ہونا تھا، مؤثر طور پر منسوخ کر دیا گیا کیونکہ دونوں ٹیمیں دوپہر 12:30 بجے ٹاس کے لیے میدان میں نہیں پہنچیں۔
یہ بائیکاٹ کرکٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن آف بنگلہ دیش کے زیرِ اہتمام کیا گیا جو بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کی آخری وقت کی کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کے باوجود نافذ العمل رہا۔
اس سے قبل آج صبح بی سی بی نے ڈائریکٹر ایم نظم الاسلام کو شوکاز نوٹس جاری کیا اور ان کے خلاف باضابطہ تادیبی کارروائی کا آغاز کیا۔ نظم الاسلام پر الزام ہے کہ انہوں نے قابل اعتراض بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر کھلاڑی کارکردگی نہ دکھائیں تو انہیں اپنی تنخواہیں واپس کرنی چاہییں۔
مزید پڑھیے: ٹی20 ورلڈ کپ، بھارت میں محفوظ نہیں، بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے ٹیم بھیجنے سے انکار کردیا
بی سی بی نے اپنے بیان میں ان ریمارکس پر افسوس کا اظہار کیا اور نظم الاسلام کو 48 گھنٹوں کے اندر تحریری وضاحت جمع کرانے کی ہدایت کی۔ بورڈ نے کھلاڑیوں کو کرکٹ کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے ہوئے ان سے پیشہ ورانہ رویہ اپنانے اور بی پی ایل کو جاری رکھنے کی اپیل کی۔
تاہم بورڈ کی اندرونی تادیبی کارروائی کھلاڑیوں کو مطمئن کرنے میں ناکام رہی۔ کرکٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن آف بنگلہ دیش بائیکاٹ کے فیصلے پر قائم ہے جس کے باعث دن کے اوائل میں ڈھاکہ کرکٹ لیگ کے میچز بھی متاثر ہوئے۔
بعد ازاں بی سی بی نے زوم اجلاس کے ذریعے نظم الاسلام کو فنانس کمیٹی کے چیئرمین کے عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا۔ تاہم بی سی بی کے آئین کے مطابق بورڈ نظم الاسلام کو ڈائریکٹر کے عہدے سے اس وقت تک نہیں ہٹا سکتا جب تک وہ خود استعفیٰ نہ دیں۔
مزید پڑھیں: بھارتی کرکٹ بورڈ کا متعصبانہ فیصلہ، بنگلہ دیشی کھلاڑی کو آئی پی ایل سے باہر کر دیا گیا
ابھی تک کرکٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن آف بنگلہ دیش نے بورڈ کے اس تازہ فیصلے پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔











