بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) نے کرکٹرز سے متعلق متنازع بیانات پر شدید تنقید کے بعد ڈائریکٹر نظم الاسلام کو فنانس کمیٹی کے چیئرمین کے عہدے سے ہٹا دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ڈائریکٹر بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کا متنازعہ بیان، تمیم اقبال کے حامیوں کے احتجاجی مظاہرے
بی سی بی کے صدر امین الاسلام آئندہ نوٹس تک فنانس کمیٹی کے فرائض عبوری طور پر خود انجام دیں گے۔
تاہم کھلاڑیوں کی جانب سے مسلسل مطالبات کے باوجود نظم الاسلام نے تاحال بورڈ ڈائریکٹر کے عہدے سے استعفیٰ نہیں دیا ہے۔
یہ فیصلہ جمعرات کے روز بی سی بی کے ہنگامی آن لائن اجلاس میں کیا گیا۔ اسی دوران کرکٹرز ایک مقامی ہوٹل میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔
اجلاس میں بورڈ نے متفقہ طور پر نظم الاسلام کو فنانس کمیٹی کی چیئرمین شپ سے فارغ کرنے کی منظوری دی جو بی سی بی کی سب سے بااثر قائمہ کمیٹیوں میں شمار ہوتی ہے۔
اس پیشرفت کی تصدیق بی سی بی کے ڈائریکٹر اور میڈیا کمیٹی کے چیئرمین امزاد حسین نے میڈیا سے گفتگو میں کی۔
شوکاز نوٹس جاری
اس سے قبل دن کے آغاز میں بی سی بی نے ایک پریس ریلیز کے ذریعے بتایا تھا کہ نظم الاسلام کو قابل اعتراض بیانات دینے پر شوکاز نوٹس جاری کیا گیا ہے جس میں انہیں 48 گھنٹوں کے اندر تحریری وضاحت جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
مزید پڑھیے: ڈائریکٹر کرکٹ بورڈ کے استعفے سے انکار پر بنگلہ دیشی کھلاڑیوں کا بائیکاٹ، بی پی ایل معطل

نظم الاسلام کے بیانات نے کرکٹ حلقوں میں شدید ردعمل کو جنم دیا تھا جس کے نتیجے میں کھلاڑیوں کی جانب سے احتجاج اور عوامی سطح پر تنقید سامنے آئی۔
اگرچہ بورڈ نے انہیں فنانس کمیٹی کے عہدے سے ہٹا کر تادیبی کارروائی کی ہے تاہم کھلاڑیوں اور کرکٹ سے وابستہ حلقوں کی جانب سے بورڈ ڈائریکٹر کے عہدے سے ان کے استعفے کے مطالبات بدستور جاری ہیں۔
بی سی بی کا مؤقف
بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے مطابق حالیہ صورتحال اور ادارے کے وسیع تر مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے صدر بی سی بی نے فوری طور پر نظم الاسلام کو فنانس کمیٹی کی چیئرمین شپ سے ہٹانے کا فیصلہ کیا۔
بی سی بی کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ آئین کے آرٹیکل 31 کے تحت صدر کو حاصل اختیارات کے مطابق کیا گیا جس کا مقصد بورڈ کے امور کو مزید ہموار اور مؤثر انداز میں چلانا ہے۔
بورڈ کے اعلامیے کے مطابق آئندہ احکامات تک بی سی بی کے صدر امین الاسلام خود فنانس کمیٹی کے عبوری چیئرمین کے طور پر خدمات انجام دیں گے۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کا ٹیم بھارت نہ بھیجنے کا اعلان، شاہد آفریدی بول پڑے
یاد رہے کہ نظم الاسلام پر الزام ہے کہ انہوں نے قابل اعتراض بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر کھلاڑی کارکردگی نہ دکھائیں تو انہیں اپنی تنخواہیں واپس کرنی چاہییں۔














