خراب کولیسٹرول میں 50 فیصد تک کمی: سائنسدانوں نے نیا طریقہ علاج ڈھونڈ لیا

ہفتہ 2 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سائنسدانوں نے خراب کولیسٹرول کم کرنے کا ایک نیا اور مؤثر طریقہ متعارف کرا دیا ہے، جس کے ابتدائی نتائج کے مطابق کولیسٹرول کی سطح میں تقریباً 50 فیصد تک کمی ممکن ہو سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ نئی تھراپی روایتی ادویات کے مقابلے میں کم مضر اثرات رکھتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:اگر ادویہ سے بھی کولیسٹرول کم نہ ہو تو کیا کیا جائے؟

میڈیا رپورٹ کے مطابق خراب کولیسٹرول جسے کم کثافت والا لیپوپروٹین کولیسٹرول کہا جاتا ہے، خون کی شریانوں میں جمع ہو کر دل کے دورے اور فالج جیسے خطرناک امراض کا سبب بن سکتا ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے ماہرین نے ڈی این اے (جینیاتی مادہ) پر مبنی ایک جدید طریقہ تیار کیا ہے۔

تحقیق کے مطابق یہ نیا علاج ایک اہم پروٹین پی سی ایس کے نائن (PCSK9) کو بلاک کرتا ہے، جو خون میں خراب کولیسٹرول کی سطح کو بلند رکھنے میں کردار ادا کرتا ہے۔ اس پروٹین کو روکنے سے جسم کے خلیات زیادہ کولیسٹرول جذب کرنے لگتے ہیں، جس سے خون میں اس کی مقدار نمایاں طور پر کم ہو جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:کیا آپ بھی یہی سمجھتے ہیں کہ پتلے افراد میں ہائی کولیسٹرول نہیں ہوسکتا؟

یہ تحقیق بارسلونا یونیورسٹی اور اوریگن یونیورسٹی کے ماہرین نے مشترکہ طور پر کی، جس میں خاص قسم کے ڈی این اے مالیکیولز استعمال کیے گئے جو اس پروٹین کی پیداوار کو کم کرتے ہیں۔

سائنسدانوں نے اس طریقہ کار کو لیبارٹری میں جگر کے خلیات اور خاص قسم کے چوہوں پر آزمایا، جہاں اس کے مثبت نتائج سامنے آئے۔ یہ تحقیق سائنسی جریدے بایو کیمیکل فارماکولوجی میں بھی شائع کی گئی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آئندہ مراحل میں بھی یہ نتائج برقرار رہے تو یہ طریقہ دل کی بیماریوں کے خطرے کو کم کرنے میں ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے اور مستقبل میں کولیسٹرول کے علاج کا طریقہ بدل سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp