اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے جمعرات کے روز پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں گورنر خیبر پختونخواہ فیصل کریم کنڈی نے ملاقات کی۔
یہ بھی پڑھیں: اسپیکر ایاز صادق اور جے شنکر کی ملاقات، اصل میں کیا ہوا؟
ملاقات کے دوران ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال، قومی معاملات، پارلیمانی امور اور وفاق و صوبوں کے درمیان ہم آہنگی سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ جمہوری نظام کے استحکام کے لیے تمام آئینی اور قانون ساز اداروں کے درمیان مشاورت اور باہمی تعاون ناگزیر ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ پارلیمنٹ عوام کی امنگوں کی ترجمان ہے اور قومی مفاد میں قانون سازی اور پالیسی سازی باہمی اتفاقِ رائے سے آگے بڑھائی جانی چاہیے۔
اسپیکر نے مزید کہا کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان مضبوط رابطہ اور تعاون ملکی استحکام، ترقی اور عوامی فلاح کے لیے نہایت اہم ہے۔
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے پارلیمنٹ کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ صوبہ خیبر پختونخوا وفاق کے ساتھ مل کر جمہوری اقدار کے فروغ اور عوامی مسائل کے حل کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کرتا رہے گا۔
مزید پڑھیے: بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر خود آکر مجھ سے ملے، ایاز صادق نے ملاقات کی تفصیل بتا دی
اس سے قبل اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے اسپیکر سندھ اسمبلی اویس قادر شاہ اور وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی نے بھی پارلیمنٹ ہاؤس میں ملاقات کی۔
ملاقات کے دوران ملک کے قانون ساز اداروں کے مابین باہمی تعاون کو فروغ دینے، پارلیمانی روابط، مؤثر قانون سازی، اور وفاق و صوبوں کے درمیان ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنانے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے درمیان مؤثر رابطے قانون سازی کے عمل کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور پارلیمانی تعاون سے عوامی مسائل کے حل میں مدد ملتی ہے۔
اسپیکر سندھ اسمبلی اویس قادر شاہ نے کہا کہ صوبائی اور وفاقی قانون ساز اداروں کے درمیان تجربات کے تبادلے سے قانون سازی کے معیار میں بہتری آئے گی۔
وزیراعظم کے معاونِ خصوصی طارق فاطمی نے بھی وفاق اور صوبوں کے درمیان ہم آہنگی کو قومی مفاد میں پالیسی سازی کے لیے ناگزیر قرار دیا۔
مزید پڑھیں: ڈھاکہ میں غیر معمولی سفارتی لمحہ: پاکستان کے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق اور بھارتی وزیر خارجہ کی ملاقات
ملاقات کے دوران ملکی سیاسی صورتحال، قومی مفاد کے اہم امور اور باہمی دلچسپی کے دیگر موضوعات پر بھی بات چیت کی گئی۔














