نوبیل انعام نہیں ملا، اب میں امن کے بارے میں سوچنے کا پابند نہیں، ٹرمپ کا ناروے کے وزیراعظم کو خط

منگل 20 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ناروے کے وزیر اعظم کو ایک سخت پیغام بھیجا ہے جس میں انہوں نے نوبیل امن انعام نہ ملنے پر اپنی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے اسے گرین لینڈ کے معاملے سے جوڑ دیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے اپنے پیغام میں واضح طور پر لکھا کہ اس بات پر غور کرتے ہوئے کہ آپ کے ملک نے 8 سے زائد جنگیں رکوانے کے باوجود مجھے نوبیل امن انعام نہ دینے کا فیصلہ کیا، اب میں صرف امن کے بارے میں سوچنے کا پابند نہیں ہوں۔

یہ بھی پڑھیے: گرین لینڈ پر امریکی کنٹرول کے علاوہ کچھ بھی قابلِ قبول نہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ امن ہمیشہ اولین ترجیح رہے گا، لیکن اب میں وہ سوچ سکتا ہوں جو امریکا کے لیے بہتر اور مناسب ہے۔

صدر ٹرمپ نے اپنے اس پیغام میں ڈنمارک کے زیرِ انتظام علاقے گرین لینڈ پر امریکی ملکیت کا دعویٰ دہراتے ہوئے کہا کہ ڈنمارک اس خطے کو روس یا چین سے بچانے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ انہوں نے ڈنمارک کے حقِ ملکیت پر سوال اٹھاتے ہوئے لکھا کہ محض سینکڑوں سال پہلے ایک کشتی کے وہاں پہنچنے سے ملکیت ثابت نہیں ہوتی، کیونکہ امریکی کشتیاں بھی وہاں پہنچتی رہی ہیں۔

انہوں نے مزید زور دے کر کہا کہ جب تک گرین لینڈ پر امریکا کا ‘مکمل اور کلی کنٹرول’ نہیں ہوگا، تب تک دنیا محفوظ نہیں ہو سکتی۔

یہ بھی پڑھیے: وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا ماچادو نے اپنا نوبیل انعام صدر ٹرمپ کو پیش کردیا

ناروے کے وزیر اعظم جوناس گاہراسٹورے نے اس پیغام کی تصدیق کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ نوبیل امن انعام کا فیصلہ ایک خود مختار کمیٹی کرتی ہے جس میں حکومت کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔

یہ سفارتی تنازع ایک ایسے وقت میں شدت اختیار کر گیا ہے جب صدر ٹرمپ نے گرین لینڈ کے حصول کے لیے دباؤ ڈالنے کی غرض سے ناروے سمیت 8 یورپی ممالک پر بھاری تجارتی محصولات (ٹیرف) عائد کرنے کی دھمکی دی ہے، جس سے امریکا اور یورپ کے درمیان ایک نئی تجارتی جنگ کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp