امریکا نے وینزویلا سے منسلک ساتواں تیل بردار جہاز تحویل میں لے لیا

بدھ 21 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 

امریکا نے وینزویلا کے تیل کی پیداوار اور فروخت پر سخت کنٹرول قائم رکھنے کے اپنے مؤقف کو مزید مضبوط کرتے ہوئے ایک اور تیل بردار جہاز اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔ امریکی فوج کے مطابق یہ کارروائی کیریبین میں وینزویلا سے وابستہ تیل بردار جہازوں کی ناکہ بندی کے سلسلے کی تازہ کڑی ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا نے وینزویلا کے تیل کی فروخت شروع کر دی ، 500 ملین ڈالر کی رقم اکاؤنٹس میں محفوظ

امریکی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے وینزویلا سے منسلک ساتواں تیل بردار جہاز اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔ لاطینی امریکا میں فوجی کارروائیوں کی نگرانی کرنیوالی امریکی سدرن کمانڈ (ساؤتھ کام) نے بتایا کہ موٹر ویسل ساگیٹا کو اس وقت روکا گیا جب وہ وینزویلا آنے یا وہاں سے جانے کی کوشش کر رہا تھا۔

ساؤتھ کام کے مطابق یہ کارروائی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وینزویلا سے منسلک پابندی زدہ جہازوں کے خلاف عائد کردہ سمندری قرنطینہ کے تحت کی گئی۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ یہ جہاز صدر ٹرمپ کی ہدایات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تیل کی نقل و حمل میں مصروف تھا۔

حکام کے مطابق جہاز کو تحویل میں لینے کا عمل کسی مزاحمت یا تصادم کے بغیر مکمل کیا گیا، اور اس دوران امریکی فورسز کی جانب سے جہاز پر اترنے کی ویڈیو بھی جاری کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ امریکا نے 10 دسمبر سے وینزویلا سے منسلک تیل بردار جہازوں کو تحویل میں لینے کا سلسلہ شروع کیا تھا، جسے وینزویلا پر دباؤ بڑھانے کی مہم کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا بمقابلہ کیوبا اور وینزویلا: تعلقات میں کشیدگی کی اصل وجوہات کیا ہیں؟

امریکا اور وینزویلا کے درمیان کشیدگی 3 جنوری کو اس وقت عروج پر پہنچی جب صدر ٹرمپ نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کے خلاف ایک فوجی کارروائی کی منظوری دی۔

امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ وینزویلا کا تیل غیرقانونی طور پر فروخت کیا جا رہا ہے اور امریکا اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ وینزویلا سے نکلنے والا تیل صرف قانونی اور امریکی نگرانی میں طے شدہ طریقہ کار کے مطابق فروخت ہو۔

صدر ٹرمپ متعدد بار یہ بیان دے چکے ہیں کہ وینزویلا کے تیل کی عالمی منڈی میں فروخت امریکا کے کنٹرول میں ہو گی اور اس سے حاصل ہونے والی آمدن امریکی زیرِ انتظام اکاؤنٹس میں جمع کرائی جائے گی۔

دوسری جانب قانونی ماہرین ان اقدامات کو وینزویلا کی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتے ہیں۔ عبوری وینزویلا صدر ڈیلسے روڈریگز نے حال ہی میں بتایا ہے کہ ان کے ملک کو حالیہ تیل فروخت سے 30 کروڑ ڈالر موصول ہوئے ہیں، جبکہ حکومت مستقبل میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی اجازت دینے کے لیے ہائیڈروکاربن قوانین میں اصلاحات کا عندیہ بھی دے چکی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سعودی عرب کی مصنوعی ذہانت کے میدان میں نمایاں عالمی پیش رفت، اے آئی انڈیکس درجہ بندی میں بہتری

بلوچستان میں افسران کی فیلڈ میں موجودگی یقینی بنانے کے لیے ڈیجیٹل مانیٹرنگ کا فیصلہ

سعودی عرب کا پاکستان کے لیے 3 ارب ڈالر اضافی معاونت کا اعلان، 5 ارب ڈالر ڈپازٹ کی مدت میں توسیع

ایران امریکا مذاکرات کا دوسرا دور، جے ڈی وینس، وٹکاف اور جیرڈ کشنر حصہ لیں گے، سی این این

مریم نواز شریف کی وزارت اعلیٰ کے 2 برس، لوگ کیا کہتے ہیں؟

ویڈیو

مریم نواز شریف کی وزارت اعلیٰ کے 2 برس، لوگ کیا کہتے ہیں؟

پاکستان کی ثالثی نے دنیا بھر کی سٹاک مارکیٹ کو بچا لیا

پاکستان، ایران اور امریکا کے درمیان امن معاہدے کے لیے مزید کیا سکتا ہے؟

کالم / تجزیہ

محبت، کتابیں اور دستوئیفسکی کے ’بیچارے لوگ‘

ایران امریکا تصادم کس طرف جا رہا ہے؟

ایک تھی آشا