ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان اور امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان بدھ کے روز ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں شام اور غزہ کی تازہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا جب ترکیہ کی حمایت یافتہ شامی حکومت نے امریکا کی اتحادی کرد فورسز کے ساتھ کئی دنوں کی جھڑپوں کے بعد جنگ بندی کا اعلان کیا ہے۔
شام میں پیش رفت اور کرد فورسز پر دباؤ
ترکیہ صدارتی دفتر کے مطابق صدر اردوان نے گفتگو کے دوران کہا کہ ترکیہ شام کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور شام کی وحدت، ہم آہنگی اور علاقائی سالمیت ترکیہ کے لیے نہایت اہم ہے۔
واضح رہے کہ اس ہفتے شامی حکومت نے شمال مشرقی علاقوں کے بڑے حصے پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور کرد قیادت میں سرگرم شامی ڈیموکریٹک فورسز (SDF) کو 4 دن کی مہلت دی ہے کہ وہ مرکزی ریاست میں انضمام پر رضامندی ظاہر کریں۔
یہ بھی پڑھیے شام کی تقسیم ناقابلِ قبول، اسرائیل دہشتگرد ریاست ہے، رجب طیب اردوان
ایس ڈی ایف کی مرکزی اتحادی امریکا نے ایک بیان میں کہا ہے کہ نئی شامی حکومت کے قیام کے بعد اس اتحاد کی نوعیت بدل چکی ہے اور کرد فورسز کو مرکزی ریاست میں ضم ہونے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
ترکیہ کا سخت مؤقف: ایس ڈی ایف دہشتگرد تنظیم
ترکیہ ایس ڈی ایف کو ایک دہشتگرد تنظیم قرار دیتا ہے اور اسے کالعدم کردستان ورکرز پارٹی (PKK) سے منسلک سمجھتا ہے، جو گزشتہ 4 دہائیوں سے ترکیہ کے خلاف مسلح بغاوت میں ملوث ہے۔
انقرہ اس وقت PKK کے ساتھ ایک امن عمل میں مصروف ہے، جس کے تحت ترکیہ کا مؤقف ہے کہ اس تنظیم اور اس سے منسلک تمام گروہوں کو غیر مسلح ہو کر تحلیل ہونا ہوگا۔
ترکیہ صدارتی بیان کے مطابق دونوں صدور نے داعش کے خلاف جاری جنگ اور شامی جیلوں میں قید داعش جنگجوؤں سے متعلق بھی بات چیت کی۔
صدر اردوان نے کہا کہ دہشتگردی سے پاک، پرامن اور تمام نسلی و مذہبی عناصر پر مشتمل ترقی یافتہ شام خطے کے استحکام میں اہم کردار ادا کرے گی۔
غزہ کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال
ٹیلیفونک گفتگو کے دوران غزہ کی صورتحال بھی زیر بحث آئی۔ صدر اردوان نے صدر ٹرمپ کو بتایا کہ ترکیہ، نیٹو اتحادی امریکا کے ساتھ مل کر غزہ میں امن کے قیام کے لیے تعاون جاری رکھے گا۔
یہ بھی پڑھیے ’نیتن یاہو خطے کے امن کے لیے بڑا خطرہ بن چکا ہے‘، رجب طیب اردوان کا امیر قطر سے رابطہ
صدر اردوان نے صدر ٹرمپ کا بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت دینے پر شکریہ بھی ادا کیا۔
اس سے قبل منگل کے روز صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا تھا کہ ان کی صدر اردوان سے ’بہت اچھی‘ بات چیت ہوئی ہے، تاہم انہوں نے تفصیلات بیان نہیں کیں۔
ٹرمپ نے اس رابطے سے پہلے کہا تھا کہ یہ گفتگو ’انتہائی اہم‘ ہونے جا رہی ہے۔














