سپریم کورٹ نے کرایہ داری کا حتمی اصول طے کردیا

پیر 26 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سپریم کورٹ نے کرایہ داری کے معاملات میں ایک حتمی اور واضح اصول طے کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ مالک کے انتقال کے بعد اس کے قانونی وارث خودبخود مالک بن جاتے ہیں۔

عٖدالتی فیصلے کے مطابق اس مقصد کے لیے نئے کرایہ نامے کی ضرورت نہیں ہوتی۔

عدالتِ عظمیٰ نے واضح کیا کہ متوفی کے نام پر کرایہ جمع کرانا قانونی ادائیگی تصور نہیں ہوتا۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ نے 15 سال بعد قتل کیس کے تینوں ملزمان بری کر دیے

سپریم کورٹ نے اس بنیاد پر سندھ ہائیکورٹ کے کرایہ داروں کی بے دخلی کے فیصلے کو درست قرار دے دیا ہے۔

مذکورہ ٖفیصلے میں کرایہ داروں کو دکانیں خالی کر کے 60 دن کے اندر مالک کے حوالے کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

یہ مقدمہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس شکیل احمد پر مشتمل سپریم کورٹ کی 2 رکنی بینچ نے سنا، جبکہ جسٹس شکیل احمد نے 4 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔

مزید پڑھیں:سپریم کورٹ میں وکلا کی عدم پیشی پر چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا سخت ردعمل، صدر بار طلب

عدالتی فیصلے کے مطابق اصل مالک کے انتقال کے بعد اس کے بیٹے نے قانونی وارث کی حیثیت سے کرایہ داروں کو قانونی نوٹس جاری کر کے کرایہ اور بقایاجات کی ادائیگی کا مطالبہ کیا تھا۔

عدالت نے قرار دیا کہ کرایہ داروں نے مالک کے انتقال اور جنازے میں شرکت کا اعتراف بھی کیا، اس کے باوجود انہوں نے قانونی وارثوں کو کرایہ ادا نہیں کیا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ قانونی نوٹس کے باوجود کرایہ داروں نے کرایہ قانونی وارثوں کو ادا کرنے کے بجائے متوفی مالک کے نام پر عدالت میں جمع کرانا جاری رکھا، جو قانوناً درست ادائیگی نہیں ہے۔

مزید پڑھیں:   سپریم کورٹ نے پینشن سے متعلق تاریخی فیصلہ جاری کر دیا

سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ جب قانونی وارث کی جانب سے نوٹس دے دیا جائے تو متوفی کے نام پر کرایہ جمع کرانا قانونی ادائیگی کے زمرے میں نہیں آتا بلکہ یہ عمل جان بوجھ کر ڈیفالٹ تصور کیا جاتا ہے۔

عدالت کے مطابق قانونی وارث کو کرایہ ادا نہ کرنا اور متوفی کے نام پر جمع کرانا کرایہ داروں کی دانستہ خلاف ورزی ہے، اور جان بوجھ کر ڈیفالٹ کرنے والے کرایہ دار قانون کے تحت بے دخلی کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔

سپریم کورٹ نے کرایہ داروں کا یہ مؤقف بھی مسترد کر دیا کہ عدالت میں کرایہ جمع کرانے سے وہ بے دخلی سے محفوظ رہ سکتے ہیں، اور قرار دیا کہ اس طرح کی ادائیگی انہیں قانونی تحفظ فراہم نہیں کرتی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

اسلام آباد ایم او یوکی تائید، مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے پاکستان، سعودی عرب، مصراور ترکیہ متحد، ریجنل۔4 اجلاس کا اعلامیہ جاری

ایران لبنان میں اپنی پراکسیز کو فوری روکے ورنہ سخت جواب دیں گے، صدر ٹرمپ کی وارننگ

میری زندگی کی 2 اہم ترین شخصیات میں ایک فیلڈ مارشل عاصم منیر ہیں، ان کی قیادت نہ ہوتی توآج ہم یہاں نہ ہوتے، جے ڈی وینس

صدر ٹرمپ کی مدبرانہ قیادت کے باعث امریکا ایران مذاکرات ممکن ہوئے، وزیراعظم شہباز شریف

لائیوپاکستان اور قطر کی ثالثی میں امریکا ایران مذاکرات کا سوئٹزرلینڈ میں آغاز

ویڈیو

اسلام آباد ایم او یوکی تائید، مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے پاکستان، سعودی عرب، مصراور ترکیہ متحد، ریجنل۔4 اجلاس کا اعلامیہ جاری

میری زندگی کی 2 اہم ترین شخصیات میں ایک فیلڈ مارشل عاصم منیر ہیں، ان کی قیادت نہ ہوتی توآج ہم یہاں نہ ہوتے، جے ڈی وینس

ایران امریکا مذاکرات: وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی امریکی اور ایرانی وفود سے ملاقاتیں

کالم / تجزیہ

پاکستانی ’انا‘، ایک خاموش وبا

پاکستان: نام ہی کافی ہے

ایران امریکا معاہدے کے بعد دنیا کیسی ہوگی؟