سپریم کورٹ نے سرکاری ملازمین کی پروموشن میں تاخیر کے حوالے سے اہم فیصلہ جاری کر دیا ہے۔
عدالت نے فخر مجید کی درخواست منظور کرتے ہوئے ان کی پروموشن کو پہلی محکمہ جاتی پروموشن کمیٹی کے دن یعنی 21 جنوری 2012 سے مؤثر قرار دیا ہے۔
سپریم کورٹ نے پنجاب سروس ٹربیونل کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ انتظامی غفلت یا تاخیر کی سزا اہل ملازمین کو نہیں دی جا سکتی۔
یہ بھی پڑھیں: 72 شوگر ملز کے جرمانے، سپریم کورٹ نے ٹریبونل کو 90 روز میں فیصلہ کرنے کا حکم دے دیا
اس فیصلے میں عدالت نے کہا کہ سرکاری ملازمین کا پروموشن ان کا بنیادی حق ہے اور بروقت پروموشن کے لیے اہل افسران کو محکمہ جاتی پروموشن کمیٹی میں شامل کیا جانا ضروری ہے۔
سپریم کورٹ کی جسٹس عائشہ ملک نے 7 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا، جبکہ بینچ میں جسٹس محمد ہاشم کاکڑ اور جسٹس اشتیاق ابراہیم بھی شامل تھے۔
مزید پڑھیں: 4 سالہ بچے کی ہلاکت، سپریم کورٹ نے سوتیلی ماں کی ضمانت منظور کرلی
عدالتی فیصلے کے مطابق، پنجاب سروس ٹربیونل نے فخر مجید کی اپیل مسترد کی تھی کہ وہ پہلی محکمہ جاتی پروموشن کمیٹی کے دن سے پروموشن کے حق کے حقدار ہیں لیکن سپریم کورٹ نے اس فیصلے کو کالعدم قرار دیا۔
عدالت نے واضح کیا کہ پروموشن میں تاخیر یا انتظامی لاپروائی ملازمین کے حق کو متاثر نہیں کرے گی اور سرکاری ادارے بروقت پروموشن کو یقینی بنائیں۔














