برطانوی شاہی خاندان سے متعلق ایک ماہر نے دعویٰ کیا ہے کہ شاہ چارلس شہزادہ ہیری اور میگھن مارکل کے ساتھ کشیدہ تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے ایک ڈرامائی قدم اٹھانے پر خاموشی سے غور کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ملکہ کمیلا کا سوتیلے بیٹے شہزادہ ہیری اور ان کی اہلیہ کو معاف کرنے سے انکار
یہ دعویٰ شاہی امور کے ماہر روب شوٹر نے اپنے سب اسٹیک میں اس وقت کیا جب شہزادہ ہیری برطانیہ کے دورے کے بعد کیلیفورنیا میں اپنے خاندان کے ساتھ دوبارہ جا ملے۔
روب شوٹر کے مطابق کنگ چارلس اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ اپنے انتہائی نجی اور ذاتی محل بالمورل کیسل کے دروازے شہزادہ ہیری اور میگھن مارکل کے لیے کھول دیے جائیں۔ ماہر کے مطابق بادشاہ اس فیصلے پر پرعزم دکھائی دیتے ہیں۔
شاہی ماہر کا کہنا ہے کہ کنگ چارلس کا یہ ممکنہ اقدام اعتماد، معافی اور ہیری و میگھن کے ساتھ تعلقات میں دراڑ کو ختم کرنے کی سنجیدہ خواہش کی عکاسی کرتا ہے۔
روب شوٹر نے کہا کہ یہ بکنگھم پیلس نہیں ہے بالمورل بالکل مختلف ہے۔ یہ کنگ چارلس کا ذاتی گھر ہے جو سنہ 1852 میں ملکہ وکٹوریہ اور پرنس البرٹ نے خریدا تھا۔ یہ وسیع اسکاٹش اسٹیٹ طویل عرصے سے شاہی خاندان کے لیے جذباتی پناہ گاہ رہی ہے جہاں روایت، نجی زندگی اور خاندانی وقت کو خاص اہمیت حاصل ہے اور اب ذرائع کے مطابق کنگ چارلس اسے ہیری اور میگھن کے ساتھ بانٹنے پر آمادہ ہو سکتے ہیں۔
مزید پڑھیے: میگھن مارکل نے شہزادہ ہیری اور بادشاہ چارلس کی صلح پر پانی پھیر دیا
محل کے ایک اندرونی ذریعے نے بتایا کہ یہ کنگ چارلس کی سب سے ذاتی رہائش گاہ ہے۔ ہیری اور میگھن کو بالمورل میں وقت گزارنے کی پیشکش ایک بہت بڑا اشارہ ہے جو اعتماد، معافی اور تعلقات کی بحالی کی حقیقی خواہش کو ظاہر کرتا ہے۔
ذرائع کے مطابق اس مجوزہ اقدام میں بالمورل کی ملکیت کی منتقلی یا کسی مستقل انتظام کا کوئی ارادہ شامل نہیں ہوگا۔ اس کے بجائے ہیری اور میگھن کو مخصوص خاندانی مواقع پر بالمورل میں قیام کی دعوت دی جا سکتی ہے۔
شاہی ماہر کے مطابق یہ ممکنہ پیشکش ایک سوچا سمجھا ’زیتون کی شاخ‘ ہے جس کا مقصد یہ پیغام دینا ہے کہ مفاہمت کا دروازہ اب بھی کھلا ہے۔
مزید پڑھیں: بادشاہ چارلس کا بیٹے شہزادہ ہیری کو حوصلہ افزا اشارہ، بہو میگھن کی سالگرہ پر مثبت جذبے کی جھلک
یاد رہے کہ شاہ چارلس اور شہزادہ ہیری کے درمیان اختلافات گزشتہ چند برسوں کے دوران نمایاں طور پر سامنے آئے خصوصاً اس وقت جب شہزادہ ہیری اور ان کی اہلیہ میگھن مارکل نے شاہی ذمہ داریوں سے علیحدگی اختیار کی اور امریکا منتقل ہو گئے۔ اس فیصلے کے بعد شاہی خاندان کے اندر فاصلے بڑھے جبکہ انٹرویوز، دستاویزی فلموں اور شہزادہ ہیری کی کتاب میں کیے گئے انکشافات نے تعلقات میں مزید تناؤ پیدا کیا۔
یہ بھی پڑھیے: حقیقی زندگی میں طلسماتی کہانی جیسا سماں باندھتی مشہور شاہی شادیاں
ان اختلافات کا مرکز شاہی روایات، میڈیا کے کردار، ذاتی آزادی اور خاندانی معاملات رہے۔ اگرچہ وقتاً فوقتاً مفاہمت کی کوششوں کی خبریں سامنے آتی رہی ہیں تاہم باپ اور بیٹے کے درمیان اعتماد کی فضا مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکی جس کے باعث ان کے تعلقات طویل عرصے سے سرد مہری کا شکار رہے ہیں۔













