متحدہ قومی موومنٹ یعنی ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین کو لندن کے ایک اسپتال میں داخل کیا گیا ہے، جہاں اتوار کی رات ڈاکٹروں کی مشورے پر خون بھی منتقل کیا گیا ہے۔
ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین کو اتوار کی شام صحت خراب ہونے کے باعث اسپتال لے جایا گیا، جہاں ابتدائی معائنہ کے بعد ڈاکٹروں نے انہیں داخل کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: قائد ایم کیوایم الطاف حسین کا سیاسی ناکامی کا اعتراف، کارکنوں کو حلف سے آزاد کردیا
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایم کیو ایم کی جانب سے ایک پوسٹ میں بتایا گیا ہے کہ ڈاکٹروں نے انہیں انجیکشن دیا اور جسم میں کمزوری کے پیش نظر ڈرپ شروع کی۔
پارٹی نے مزید کہا کہ ڈاکٹروں نے اسپتال میں ان کا تفصیلی معائنہ کیا ہے اور پیر کو ان کا مکمل چیک اپ کیا جائے گا۔
تازہ ترین اپڈیٹ : ایم کیو ایم کے بانی و قائد جناب الطاف حسین کو اتوار کی شب ڈاکٹروں کے مشورے پر خون چڑھایا جارہا ہے ۔
جناب الطاف حسین کو طبیعت ناساز ہونے پر اتوار کی شام کو اسپتال میں داخل کیا گیا ہے#GetWellSoonAltafHussain pic.twitter.com/qi4wcjaPyR— MQM (@OfficialMQM) February 2, 2026
1990 کی دہائی کے اوائل میں، الطاف حسین کراچی میں ہونے والے ایک آپریشن کے بعد لندن میں خود ساختہ جلاوطنی اختیار کرلی تھی۔
الطاف حسین کو لندن سے پاکستانی سیاست پر اثر انداز ہونے کے لیے جانا جاتا تھا، مئی 2013 میں، انہوں نے ایک متنازعہ تقریر کی جس میں انہوں نے اپنی پارٹی کا عوامی مینڈیٹ قابل قبول نہ ہونے کی صورت میں پاکستان کے دیگر حصوں سے کراچی کو علیحدہ کرنے کا مطالبہ کیا۔
مزید پڑھیں: وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کی الطاف حسین پر شدید تنقید، عمران فاروق کا قاتل قرار دے دیا
تاہم، پارٹی نے بعد میں وضاحت کی کہ ان کے الفاظ کا غلط مفہوم نکالا گیا تھا۔
ایم کیو ایم کی آخری تباہی 2016 میں ہوئی جب الطاف حسین نے ایک انتہائی متنازعہ تقریر میں نہ صرف پاکستان کے خلاف نعرے لگائے بلکہ ملک کو ’دنیا کے لیے کینسر‘ قرار دیا۔
اس تقریر کے بعد ایم کیو ایم کے کارکنوں نے کراچی میں اے آر وائی نیوز کے دفتر پر حملہ کیا۔
حکام نے اس تقریر کے بعد کارروائی شروع کی اور ایم کیو ایم کے کراچی ہیڈکوارٹر اور الطاف حسین کی رہائش گاہ عزیز آباد کو سیل کر دیا۔
مزید پڑھیں: ایم کیو ایم پاکستان کی عدالتی کامیابی، الطاف حسین لندن رہائشگاہ سمیت 6جائیدادوں سے محروم
بعد میں الطاف حسین کے اپنے پارٹی رہنماؤں نے ان سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے ان کا نام پارٹی کے آئین سے نکال دیا۔
اکتوبر 2019 میں، برطانوی پولیس نے حسین پر ’دہشت گردی کی ترغیب دینے‘ کا الزام عائد کرتے ہوئے انہیں 2019 کے آغاز میں گرفتار کیا گیا تھا، لیکن بعد میں ضمانت پر رہائی مل گئی۔
فروری 2022 میں ایک 12 رکنی جیوری نے الطاف حسین کو دہشتگردی کی ترغیب دینے کے دونوں الزامات سے بری کر دیا گیا۔












