پاکستان پیپلز پارٹی کی نائب صدر اور سینیٹر شیری رحمان نے آبی ذخائر کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں ویٹ لینڈز کے تحفظ کو قومی بقا کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں 225 سے زائد اہم ویٹ لینڈز موجود ہیں، جن میں سے 19 ریمسار کنونشن کے تحت شامل ہیں، جبکہ ان کا مجموعی رقبہ 13 لاکھ 43 ہزار 807 ہیکٹر پر محیط ہے۔
شیری رحمان نے کہا کہ ویٹ لینڈز پاکستان کے پانی، ماحول اور ثقافت کے لیے نہایت اہم ہیں اور ان کا تحفظ آنے والی نسلوں کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان ریمسار کنونشن 1971 کا رکن ہے، جو ویٹ لینڈز کے مؤثر تحفظ اور دانشمندانہ استعمال کو یقینی بنانے کے لیے عالمی فریم ورک فراہم کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: پانی کو جنگی ہتھیار بنانے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کرتے ہیں، صدر اور وزیرِ اعظم
سینیٹر شیری رحمان کے مطابق پاکستان میں فی کس دستیاب پانی کی مقدار 1951 میں 5 ہزار 300 مکعب میٹر تھی، جو کم ہو کر 2023 میں صرف 740 مکعب میٹر رہ گئی ہے، جو سنگین آبی بحران کی نشاندہی کرتی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ 2050 تک پاکستان کی آبادی 315 ملین تک پہنچنے کا امکان ہے، جس کے لیے اضافی 60 ملین ایکڑ فٹ پانی درکار ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ پاکستان دنیا میں کاربن کے اخراج میں کم سے کم حصہ ڈالتا ہے، لیکن ویٹ لینڈز ہمیں شدید موسمی اثرات سے بچانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: ہاؤس پلانٹس: ماحولیاتی انقلاب کی طرف ایک مثبت قدم
شیری رحمان نے کہا کہ ویٹ لینڈز سیلاب، خشک سالی، شدید گرمی اور سمندر کی سطح میں اضافے کے خطرات کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ انہوں نے جنوبی ایشیا میں پانی کے تحفظ کے لیے مؤثر قوانین اور باہمی اعتماد کو ناگزیر قرار دیا۔
انہوں نے سندھ طاس معاہدے کے اصولوں کی خلاف ورزی اور پانی سے متعلق ڈیٹا شیئر نہ کرنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات مستقبل میں پاکستان میں پانی کی قلت کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دریاؤں کے قدرتی بہاؤ میں رکاوٹیں لاکھوں افراد کی زندگی، روزگار اور خوراک کے تحفظ کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہیں۔













