بلوچستان میں دہشتگردی کرنے والے پاکستان کے دشمن، ان کی کوئی ناراضی نہیں، رانا ثنااللہ

پیر 2 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعظم پاکستان کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں دہشتگردی کرنے والے پاکستان کے دشمن ہیں، ان کی کوئی ناراضی نہیں، یہ کہنا غلط ہے کہ دہشتگردوں سے بات کریں۔

سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہاکہ مجرمانہ سرگرمیاں چند گروہ مل کر کہیں بھی کر سکتے ہیں، ان دہشتگردوں کی کوئی ناراضی نہیں بلکہ یہ پاکستان کے دشمن ہیں جو ملک کو توڑنا چاہتے ہیں، اس لیے ان سے کسی قسم کی بات چیت نہیں ہو سکتی۔

مزید یہ پڑھیں: بلوچستان کی سیکیورٹی صورتحال، دہشتگردی کے پیچھے کون؟

انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا یہ لوگ اس نظام پر یقین رکھتے ہیں یا کبھی اس کا حصہ بنے ہیں؟

رانا ثنااللہ نے کہاکہ سیکیورٹی فورسز کے 17 اہلکاروں اور 33 سویلینز کو شہید کیا گیا جبکہ کارروائیوں کے دوران 170 دہشتگرد ہلاک اور کچھ گرفتار بھی ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ ابہام پیدا کرنے سے دہشتگردوں کو تقویت ملتی ہے، اس لیے کسی اگر مگر کے بغیر دہشتگردوں کو دہشتگرد کہا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہاکہ معرکہ حق میں دشمن کو ذلت آمیز شکست ملی اور اب ان دہشتگردوں کو بھی اسی انجام سے دوچار کیا جائے گا۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ جعفر ایکسپریس واقعے کے بعد دہشتگردوں کی لاشیں کس نے قبضے میں لیں۔

انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں دہشتگرد بسیں روک کر بے گناہ لوگوں کو شہید کرتے ہیں، بچوں اور خواتین کے سامنے لوگوں کو گولیوں سے چھلنی کرنا بدترین درندگی ہے۔ جعفر ایکسپریس پر حملہ انسانیت کے خلاف سنگین ترین جرم ہے اور معصوم شہریوں کا قتل کسی جدوجہد یا ناراضی کا جواز نہیں بن سکتا۔

رانا ثنااللہ نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج نے دشمن کو بدترین شکست دی، یہ دہشتگرد دشمن کے آلۂ کار ہیں اور دشمن کی ایما پر سب کچھ کر رہے ہیں۔ معرکۂ حق میں پاک فوج نے بھرپور ہمت اور طاقت کا مظاہرہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ آپریشن سندور کی ناکامی کے بعد بہکے ہوئے عناصر کے ذریعے پراکسی جنگ لڑی جا رہی ہے، دہشتگرد دشمن ملک کی ایما پر آپریشن سندور ٹو کے تحت مجرمانہ کارروائیاں کر رہے ہیں۔

رانا ثنااللہ نے کہا کہ دہشتگرد ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے کے لیے نکلے ہیں، تاہم یہ افواجِ پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔

مزید پڑھیں: بلوچستان: سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں فتنہ الہندوستان کے مزید 22 دہشتگرد ہلاک، مجموعی تعداد 177 ہوگئی

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ کو وزیراعظم نے اچھے انداز میں ویلکم کیا۔ دہشتگردی کے خلاف واضح اور دو ٹوک مؤقف ہونا ناگزیر ہے۔

رانا ثنااللہ نے کہا کہ سیکیورٹی ایجنسیاں جو کارروائیاں کر رہی ہیں، ان کی بھرپور حمایت ہونی چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سفید جادو، مثبت اور مددگار

متحدہ اپوزیشن کی تشکیل پر اتفاق: کیا مولانا فضل الرحمان کی سربراہی میں یہ اتحاد حکومت کے لیے خطرہ بن سکتا ہے؟

شام کے وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان مکمل: باہمی تعاون اور تعلقات کو فروغ دینے پر اتفاق

برونائی کے سلطان نے بہو سے شاہی اعزازات کیوں واپس لے لیے؟

عمران خان کو عین وقت پر شفا اسپتال کی بجائے پمز کیوں لے جایا گیا؟ طارق فضل چوہدری نے بتادیا

ویڈیو

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

امریکی صدر پر گانا چرانے کا الزام، گلوکارہ آریانا گرانڈے ڈونلڈ ٹرمپ پر برس پڑیں

کالم / تجزیہ

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘