اسلام آباد میں درختوں کی کٹائی کے خلاف کیس میں کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے عدالت کو اپنا جواب جمع کرا دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم آفس کی منظوری کے بعد پیپر میلبری (جنگلی شہتوت) کے درختوں کی کٹائی کی گئی ہے۔
سی ڈی اے کے مطابق، معرکہ حق یادگار کے منصوبے کی منظوری کے بعد پراجیکٹ شروع ہونے سے قبل زمین کی پلاننگ وزارت کے حوالے کی گئی تھی۔ اس دوران اس جگہ کے درخت جن میں شکر پڑیاں بھی شامل تھیں، دوسری جگہ منتقل کر دیے گئے۔
اسلام آباد میں درختوں کی کٹائی کے خلاف کیس میں اہم پیش رفت،وزیر اعظم آفس کی منظوری سے پیپر ملبری کے درختوں کی کٹائی کی ، سی ڈی اے کا جواب سامنے آگیا ،معرکہ حق یاد گار کی منظوری حکومت نے دی سی ڈی اے نے پراجیکٹ شروع ہونے سے پہلے زمین پلاننگ منسٹری کے حوالے کی ،اس جگہ سے درخت شکر… https://t.co/iBPiASLMgJ pic.twitter.com/TZVjsCLCQR
— Hussain Ahmed Ch (@HussainAhmedCh8) February 3, 2026
جواب میں کہا گیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے 2022 میں ماحولیات کے تحفظ کے لیے کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی تھی جس میں انوائرمنٹ پروٹیکشن ایجنسی سمیت دیگر متعلقہ ادارے شامل کیے گئے۔ پولن الرجی کے پھیلاؤ اور اس کے خاتمے کے حوالے سے 2023 میں کمیٹی کی میٹنگز اور پبلک ہیئرنگز بھی کی گئیں تاکہ یہ جانچا جا سکے کہ پیپر ملبری کے درختوں کی کٹائی کیوں ضروری ہے۔
اس ضمن میں سائنسی تحقیق موجود ہے جو پولن الرجی کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے پیپر ملبری کے درختوں کی کٹائی کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔ معروف صحافی سلیم صافی نے 2024 میں اس معاملے پر ایک آرٹیکل بھی لکھا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ’یہ اسلام آباد کو اجاڑ کر رہیں گے‘، درختوں کی کٹائی پر محسن نقوی اور چیئرمین سی ڈی اے تنقید کی زد میں
سی ڈی اے کا مؤقف ہے کہ وزیر اعظم آفس کی ہدایت پر اقدامات اٹھائے گئے اور یہ فیصلہ جلد بازی میں نہیں بلکہ اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں، تحقیق اور میٹنگز کے بعد کیا گیا۔
واضح رہے کہ اسلام آباد میں درختوں کی کٹائی روکنے کے ہائی کورٹ کے حکم امتناع میں 13 فروری تک توسیع کردی گئی۔ وکیل سی ڈی اے عامر لطیف گل نے عدالت کو آگاہ کیا ہے کہ اسلام آباد میں معرکہ حق کی یادگار بنے گی، اس لیے درخت کاٹے گئے۔














