لاہور میں ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ ہوا کی رفتار 4 کلومیٹر فی گھنٹہ رہی۔
ماہرین کے مطابق دن 10 بجے کے بعد ہوا کا رخ اور رفتار تبدیل ہونے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں ہوا کی رفتار 15 سے 20 کلومیٹر فی گھنٹہ ہونے پر اے کیو آئی میں کمی متوقع ہے۔
حکام کے مطابق جدید ڈیٹا، سائنسی ماڈلز اور جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال سے اسموگ پر قابو پانے میں نمایاں پیش رفت جاری ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر صاف فضا کے لیے اقدامات میں مزید تیزی لائی گئی ہے اور تمام متعلقہ ادارے مکمل طور پر متحرک ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: لاہور پھر سے دنیا کا آلودہ ترین شہر قرار، فضائی آلودگی انتہائی خطرناک سطح تک پہنچ گئی
بسنت کے موقع پر حکومت پنجاب کی جانب سے فراہم کی گئی فری پبلک ٹرانسپورٹ سے فائدہ اٹھانے کی اپیل کی گئی ہے تاکہ سڑکوں پر گاڑیوں کا دباؤ کم کیا جا سکے اور اسموگ میں مزید بہتری لائی جا سکے۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ذاتی گاڑیوں کے کم استعمال اور اجتماعی سفر کو ترجیح دیں۔
حکام کے مطابق بس، میٹرو بس اور اورنج لائن میٹرو ٹرین 3 روز کے لیے بلا معاوضہ دستیاب ہوں گی تاکہ ٹریفک دباؤ میں کمی اور فضائی آلودگی میں خاطر خواہ کمی لائی جا سکے۔
صوبائی حکومت کے مطابق آلودگی کے ہاٹ اسپاٹس کی نشاندہی کے لیے آرٹیفیشل انٹیلیجنس سسٹمز فعال کر دیے گئے ہیں، جبکہ ڈیجیٹل میپنگ کے ذریعے صنعتی اخراج اور ٹریفک ایمیشن کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔ اسموگ کنٹرول روم مکمل الرٹ ہے اور فیلڈ ٹیمیں ہائی الرٹ پر تعینات کر دی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: لاہور ہائیکورٹ کا اسموگ تدراک کیس میں تحریری حکم جاری، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو پیشی کا حکم
اس کے علاوہ ڈرون سرویلنس کے ذریعے فیکٹریوں، بھٹوں اور گاڑیوں کی سخت نگرانی جاری ہے، جبکہ ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی پر فوری جرمانے اور بلا امتیاز کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔
سینیئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے بزرگ شہریوں اور سانس کے مریضوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوامی تعاون کے بغیر سموگ پر قابو پانا ممکن نہیں۔
انہوں نے کہا کہ عوامی سہولت اور ماحولیاتی تحفظ حکومتِ پنجاب کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔













