سائنس دانوں کی ایک نئی تحقیق نے انسانی حواس سے متعلق صدیوں پرانے تصور کو چیلنج کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: خوشی، محبت و دیگر جذبات کے ہارمونز کونسے، یہ ہمارے دماغ پر کیسے حکومت کرتے ہیں؟
ارسطو کے بیان کردہ پانچ بنیادی حواس کے برعکس تحقیق کے مطابق انسانوں میں حواس کی تعداد 22 سے 33 تک ہو سکتی ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ انسان روزمرہ زندگی میں مسلسل کثیر حسی (ملٹی سینسری) معلومات حاصل کرتا ہے جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ انسانی حسی نظام کہیں زیادہ پیچیدہ اور باہم جڑا ہوا ہے۔
حواس الگ الگ نہیں بلکہ باہم مربوط
ماہرین کے مطابق انسانی حواس آزادانہ طور پر کام نہیں کرتے بلکہ ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
مزید پڑھیے: کیا سردیاں رومانس کا موسم لے آتی ہیں، اس دوران رومانٹک موڈ کے پیچھے کیا سائنس ہے؟
انسان جو دیکھتا، سنتا، سونگھتا اور محسوس کرتا ہے وہ سب مل کر دنیا کے بارے میں مجموعی تاثر تشکیل دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر کسی شے کی خوشبو اور ساخت دیکھے بغیر بھی اس کے بارے میں ایک تصور قائم کر سکتی ہے۔
حواس خمسہ (5 حواس) سے آگے
آکسفورڈ یونیورسٹی کی کراس موڈل لیبارٹری سے وابستہ پروفیسر چارلس اسپینس کے مطابق انسانی جسم میں کئی ایسے حسی نظام بھی موجود ہیں جو روایتی 5 حواس میں شامل نہیں کیے جاتے۔ ان میں پروپریو سیپشن، انٹروسیپشن، ویسٹی بیولر سسٹم اور ایجنسی و اونرشپ شامل ہیں۔
پروپریوسیپشن: جسم کے مختلف حصوں کی پوزیشن اور حرکت کا شعور فراہم کرتا ہے۔
مزید پڑھیں: کون سی 5 عادات اختیار کر کے آپ 97 فیصد لوگوں سے بہتر بن سکتے ہیں؟
انٹروسیپشن: جسم کے اندرونی احساسات جیسے بھوک، پیاس یا دل کی دھڑکن کو محسوس کرنا۔
ویسٹی بیولر سسٹم: توازن کا احساس، جو کان کے اندر موجود نالیوں کے ذریعے کنٹرول ہوتا ہے اور بصری تاثر کو بھی متاثر کر سکتا ہے جیسے جہاز کے ٹیک آف کے دوران کیبن کا مختلف محسوس ہونا۔
ایجنسی اور اونرشپ: یہ احساس کہ جسم کے اعضا آپ کے اپنے ہیں اور ان کی حرکت آپ کے کنٹرول میں ہے۔
تحقیق میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ ذائقہ صرف زبان پر موجود حس سے نہیں بنتا بلکہ اس میں سونگھنے، چھونے اور چکھنے کی حسیات شامل ہوتی ہیں۔
گسٹیٹیشن بنیادی ذائقوں جیسے میٹھا، نمکین، کھٹا، کڑوا اور اُمامی (یہ وہ ذائقہ ہے جو گوشت، پنیر، ٹماٹر اور سویا سوس جیسے کھانوں میں محسوس ہوتا ہے) کو محسوس کرتا ہے جبکہ خوشبو ذائقے کے احساس میں سب سے بڑا کردار ادا کرتی ہے خاص طور پر وہ مہک جو کھانے کے دوران منہ سے ناک تک پہنچتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ’اسنیکٹویٹی‘: بیماریوں اور قبل از وقت موت کے خطرات ٹالنے والی یہ ترکیب کیا ہے؟
ماہرین کے مطابق آواز بھی ذائقے کے احساس کو متاثر کر سکتی ہے۔ مثال کے طور پر ہوائی جہاز کے شور کی وجہ سے اُمامی سے بھرپور غذائیں، جیسے ٹماٹر کا جوس، دوران پرواز زیادہ ذائقہ دار محسوس ہوتی ہیں۔
یہ تحقیق انسانی حسیات کے بارے میں ہماری سمجھ کو نئے زاویے سے دیکھنے کی دعوت دیتی ہے اور ظاہر کرتی ہے کہ انسان اپنے ماحول کو محسوس کرنے کے لیے کہیں زیادہ حواس استعمال کرتا ہے جتنا ہم اب تک سمجھتے رہے ہیں۔
تاہم ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ انسانی حواس کی درست تعداد کے حوالے سے کوئی حتمی سائنسی اتفاق رائے موجود نہیں۔ مختلف محققین اور مطالعات ’حس‘ کی تعریف کو مختلف انداز میں بیان کرتے ہیں جس کے باعث حواس کی تعداد 10 سے لے کر 30 سے زائد تک بتائی جاتی ہے۔ اس لیے 33 حواس کا تصور ایک حتمی عدد کے بجائے سائنسی تشریح اور درجہ بندی کا معاملہ سمجھا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں: بخار دشمن نہیں الارم، اس کو ’بجتے‘ ہی ’بند‘ نہ کریں
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تحقیق کا بنیادی مقصد حواس کی گنتی کے بجائے یہ اجاگر کرنا ہے کہ انسانی حسی نظام روایتی 5 حواس تک محدود نہیں بلکہ ایک پیچیدہ، باہم مربوط اور کثیرالجہتی نظام ہے جو انسان کے ماحول کو سمجھنے اور اس سے تعامل میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔














