وزیر صحت مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ کراچی شہر کھنڈر بن چکا ہے، ہم اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ اگر یہ 18ویں آئینی ترمیم اپنی اصل شکل میں نافذ نہیں کی جاسکتی تو اسے رول بیک ہونا چاہییے۔
پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال کہا ہے کہ 18ویں آئینی ترمیم کو 15 سال گزر چکے ہیں، تاہم اس کے حقیقی ثمرات نچلی سطح تک منتقل نہیں ہوسکے۔
یہ بھی پڑھیں: ہم حکومت میں وزارتوں کے لیے نہیں، ایک آئینی نکتے کے لیے گئے، مصطفیٰ کمال
ان کا کہنا تھا کہ ترمیم کا بنیادی مقصد وفاق سے اختیارات صوبوں کو منتقل کرنا اور پھر صوبوں سے یہ اختیارات شہروں، اضلاع اور ٹاؤنز تک پہنچانا تھا، مگر یہ عمل ادھورا رہ گیا۔
وفاقی وزیر صحت کے مطابق 18ویں ترمیم کے تحت اختیارات تو صوبوں کو منتقل ہوگئے، لیکن وہ وزرائے اعلیٰ کے پاس جا کر رک گئے اور انہیں مقامی حکومتوں تک نہیں پہنچایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ترمیم اپنی اصل روح کے مطابق نافذ نہیں ہو سکی۔
مزید پڑھیں: مراد علی شاہ نے خط لکھ کر کراچی میں گرین لائن منصوبہ رکوایا، مصطفیٰ کمال
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت وفاق سے صوبوں کو فنڈز تو ملتے ہیں، مگر صوبے پروونشل فائنانس کمیشن یعنی پی ایف سی ایوارڈ کے ذریعے یہ وسائل نچلی سطح تک منتقل نہیں کرتے۔
انہوں نے کہا کہ ایک یا دو نہیں بلکہ پورے 15 سال گزر چکے ہیں، لیکن اختیارات اور وسائل کی حقیقی منتقلی نہیں ہو سکی، اسی لیے ان کی جماعت سمجھتی ہے کہ اگر 18ویں ترمیم اپنی اصل شکل میں نافذ نہیں ہو رہی تو اسے رول بیک کیا جانا چاہیے۔
مزید پڑھیں: مصطفیٰ کمال کی الطاف حسین کے خلاف پریس کانفرنس کی وجہ کیا بنی؟
انہوں نے بالخصوص کراچی اور حیدرآباد کے شہری مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کا شمار رہائش کے اعتبار سے دنیا کے بدترین شہروں میں ہونے لگا ہے اور شہر کی حالت ابتر ہو چکی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 18ویں ترمیم کے بعد جب وفاق سے رجوع کیا جاتا ہے تو مؤقف اختیار کیا جاتا ہے کہ فنڈز صوبوں کو منتقل کر دیے گئے ہیں۔
مزید پڑھیں: وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کی الطاف حسین پر شدید تنقید، عمران فاروق کا قاتل قرار دے دیا
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان کی جماعت نے صوبائی حکومت میں اتحادی ہونے کے ناطے پاکستان پیپلز پارٹی سے متعدد بار رابطے اور کوششیں کیں تاکہ شہری مسائل کا حل نکالا جا سکے، تاہم کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہو سکی۔
ان کے مطابق آئین، قانون اور سیاسی سطح پر بھی راستہ نکالنے کی کوشش کی گئی، مگر کامیابی نہ ملنے پر اب ایم کیو ایم نے ان مسائل پر کھل کر آواز اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔













