ملین سال پرانی موسمی تبدیلی اور انسانی ارتقا کے درمیان اہم تعلق دریافت

جمعہ 20 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سائنسدانوں نے ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ تقریباً 2.7 ملین سال قبل زمین پر آنے والی بڑی موسمی تبدیلی انسانی ارتقا سے گہرا تعلق رکھتی ہے، جس نے ابتدائی انسانوں کی نشوونما اور بقا پر اہم اثرات مرتب کیے۔

یہ تحقیق برطانیہ کی معروف یونیورسٹی آف کیمبرج کے ماہرین کی ٹیم نے کی، جنہوں نے پرتگال کے ساحل کے قریب سمندر کی تہہ سے حاصل ہونے والے مٹی کے نمونوں کا تجزیہ کر کے گزشتہ 5.3 ملین سال کی موسمی تاریخ کا جائزہ لیا۔

یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان میں واقع قدیم آثار، خطے کے شاندار ماضی کے آئینہ دار

تحقیق کے نتائج کے مطابق تقریباً 2.7 ملین سال پہلے زمین کا موسم اچانک غیر مستحکم ہو گیا تھا، جس کے نتیجے میں شمالی نصف کرہ میں برفانی چادریں پھیل گئیں اور شدید سردی کی لہریں شروع ہوئیں۔ ماہرین کے مطابق اس کے بعد زمین کے موسم میں ہزاروں سال کے وقفوں سے تیزی سے تبدیلیاں آتی رہیں۔

تحقیق کی قیادت کرنے والے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اسی دور میں انسان کی ابتدائی نسل، یعنی جینس ہومو، کا ظہور ہوا۔ ماہرین کے مطابق موسمی تبدیلیوں نے ابتدائی انسانوں کو بدلتے ماحول کے مطابق ڈھلنے، زیادہ ذہانت اور بہتر صلاحیتیں پیدا کرنے پر مجبور کیا، جو انسانی ارتقا میں اہم ثابت ہوئیں۔

یہ بھی پڑھیں: ترکی میں 5 ہزار سال پرانے برتن دریافت، ابتدائی ادوار میں خواتین کے نمایاں کردار پر روشنی

یہ تحقیق معروف سائنسی جریدے سائنس جرنل میں شائع ہوئی ہے، جس کے مطابق اس دریافت سے زمین کی موسمی تاریخ اور انسانی ارتقا کے درمیان تعلق کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملے گی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ موسمی تبدیلیاں نہ صرف زمین کے ماحول بلکہ انسان کی ارتقائی تاریخ پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتی رہی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp