گلگت بلتستان میں واقع قدیم آثار، خطے کے شاندار ماضی کے آئینہ دار

پیر 6 جنوری 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

گلگت بلتستان کے آثار قدیمہ اور بدھ مت کی تاریخ و ثقافت کے حوالے سے نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔ یہ خطہ قدیم شاہراہ ریشم پر واقع تھا جس کے باعث یہاں مختلف تہذیبوں نے جنم لیا۔

بدھ مت کے آثار اس خطے کی مذہبی اور ثقافتی ادوار کی عکاسی کرتے ہیں جو خاص طور پر پہلی سے 7ویں صدی عیسوی کے دوران یہاں رائج تھے۔

سب سے مشہور آثار میں کارگاہ بدھا، ہنزہ، چلاس ،شِگر اور اسکردو کے چٹانی نقوش شامل ہیں جہاں بدھا کے نقوش اور مختلف مذہبی علامتیں کندہ کی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان کے ’شق کھنگ‘ (قدیم تاریخی کچے مکان) مٹنے لگے

کارگاہ نالے میں بدھا کا ایک بڑا مجسمہ موجود ہے جو پتھر پر کندہ کیا گیا ہے اور بدھ مت کے پیروکاروں کے لیے مقدس سمجھا جاتا ہے۔

یہ آثار قدیمہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ گلگت بلتستان بدھ مت کا ایک اہم ثقافتی مرکز تھا جہاں بدھ مت، زرتشت اور دیگر مذاہب کے اثرات بھی پائے جاتے تھے۔

مزید پڑھیے: گلگت بلتستان کی تاریخ کا پہلا میوزیم

ان انمول آثار کو محفوظ کرنا نہ صرف تاریخی ورثے کی بقا کے لیے ضروری ہے بلکہ سیاحت کے فروغ اور خطے کی ثقافتی شناخت کو اجاگر کرنے کے لیے بھی اہم ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان کا 79واں یومِ آزادی، صوفی سٹی منڈی بہاؤ الدین میں عظیم الشان تقریب

وسیم اکرم کے بعد شاہد آفریدی کا کتا بھی لاپتا، مداحوں سے تلاش میں مدد کی اپیل

بکری کے شکار پر آئے اژدھے کو ہاتھ پر ڈسنے کے باوجود شخص دبوچ لیا

’قرضوں میں ڈوبا ملک، افسران شاہی بگھیوں میں‘ سرکاری تقریب پر عوامی و صحافتی حلقوں کی تنقید

طالبان حکومت کے اندر ’موقع پرست عناصر‘ موجود ہیں، نائب سربراہ انٹیلیجنس کا اعتراف

ویڈیو

آزاد کشمیر میں موجودہ صورتحال تشویشناک ہے، ماضی کی حکومتوں نے ذمہ داری نہیں نبھائی، نواز شریف

آبنائے ہرمز پر ایران کا قبضہ برقرار، عوام مہنگے پیٹرول کے لیے تیار ہوجائیں، صدر ٹرمپ کا امریکیوں کو پیغام

ایٹمی پلانٹ بچانے کی انوکھی تدبیر، ہنگری کا ندی میں 2 بڑے بحری جہاز ڈبونے کا فیصلہ

کالم / تجزیہ

چربیلی آگ پر چل کر سچائی ثابت کرنا

مایوس ہونے سے پہلے یہ حساب کتاب بھی کر لیں

سن 47، 1200 پاکستانی اور ایک چابی