پی ٹی آئی رہنما علی امین گنڈا پور نے کہا ہے کہ عمران خان جیسے مقبول لیڈر کا جیل میں ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک کا نظام درست نہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ پارٹی کے اندر بھی سنگین کمزوریاں موجود ہیں۔
صحافی سے گفتگو کرتے ہوئے علی امین گنڈا پور نے کہا کہ اگر ملک میں قانون، انصاف اور آئین درست طور پر نافذ ہوتے تو عمران خان جیل میں نہ ہوتے۔
تاہم انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ عمران خان کی رہائی کے لیے مطلوبہ دباؤ پیدا نہ کرنا پی ٹی آئی کی اپنی ناکامی بھی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: محسن نقوی عمران خان کی رہائی چاہتے تھے، بانی کا سنگجانی پر رکنے کا حکم نہ مان کر ہم تباہ ہوگئے، علی امین گنڈاپور
علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ وہ سب سے پہلے خود کو اس ناکامی کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔
’اگر ہمارے اندورنی اور بیرونی معاملات اتنے بہتر ہوتے تو آج عمران خان جیل میں نہ ہوتے، ہم نے عمران خان کی رہائی کے لیے اتنی پریشر والی مہم شروع کی ہوئی تھی اور آج ہم رہائی، رسائی اور پھر دوائی پر آگئے ہیں۔‘
ان کے مطابق سوال یہ نہیں کہ عمران خان کے لیے عوامی حمایت موجود ہے یا نہیں، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اتنی مقبولیت اور حمایت کے باوجود عملی نتائج کیوں سامنے نہیں آ رہے۔
مزید پڑھیں: عمران خان کو ذاتی معالج نہ ملنے پر میرے تحفظات برقرار ہیں، کسی کی دل آزاری ہوئی تو معذرت، علی امین گنڈاپور
انہوں نے کہا کہ یا تو نیت میں خرابی ہے یا پھر ہم غیر ضروری اور بے مقصد سرگرمیوں میں الجھے ہوئے ہیں۔
’بعض لوگ ذاتی مفادات، نادانی یا غفلت میں استعمال ہو رہے ہیں، جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ آج عمران خان کو نہ تو رہائی ملی اور نہ ہی بنیادی سہولیات تک مکمل رسائی حاصل ہے۔‘
پی ٹی آئی رہنما نے واضح کیا کہ عمران خان کے لیے صرف بیانات اور مذاکرات کافی نہیں، بلکہ دباؤ صرف عمل، طاقت اور منظم جدوجہد سے پیدا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر باتوں سے مسئلہ حل ہونا ہوتا تو حالات آج مختلف ہوتے۔
مزید پڑھیں: ’لگتا ہے پھر سے لانچ کردیا‘، علی امین گنڈاپور کے حالیہ بیانات پر پی ٹی آئی ہمدرد ناراض
علی امین گنڈا پور نے یہ بھی کہا کہ جب سے نئی انتظامی تبدیلیاں آئیں، عمران خان تک ملاقات اور رسائی بھی بند ہو چکی ہے، جس کا ذمہ دار کسی ایک فرد کو نہیں ٹھہرایا جا سکتا، کیونکہ پارٹی ایک ٹیم ہے اور سب اس کے ذمہ دار ہیں۔
انہوں نے اپنی وضاحت میں کہا کہ وہ کبھی خاموش نہیں رہے، نہ ہی کسی عہدے کے محتاج ہیں۔ وہ ایک ورکر کی حیثیت سے اپنے حلقے میں متحرک رہے اور پارٹی کی ہر کال پر سب سے آگے رہے۔
مزید پڑھیں: عمران نے نواز شریف کو باہر بھیجا، آپ بانی پی ٹی آئی کو بھیج دیں، علی امین گنڈاپور کا وزیراعظم سے مطالبہ
ان کا دعویٰ تھا کہ ملک کی بڑی ریلیوں اور عوامی اجتماعات میں ان کا حلقہ پیش پیش رہا۔
آخر میں علی امین گنڈا پور نے کہا کہ اگر عمران خان کے لیے دباؤ بڑھانے کی بات کرنا گناہ ہے تو وہ یہ گناہ کرتے رہیں گے، کیونکہ اصل تبدیلی عمل سے آتی ہے، صرف تقاریر اور بیانات سے نہیں۔












