پاکستان نے رات گئے افغانستان کے اندر قریباً 7 اہداف کو نشانہ بنایا ہے جن میں پاکستان کے خلاف برسرپیکار فتنہ الخوارج اور داعش خراسان کے دہشتگرد عناصر اور ان کے سہولت کاروں کے کیمپس اور کمین گاہیں شامل ہیں۔
وزارت اطلاعات و نشریات نے ایکس پر اپنے بیان میں ان حملوں کی تصدیق کی اور کہا ہے کہ اسلام آباد کی امام بارگاہ، باجوڑ اور بنوں میں ہونے والے حملوں سمیت آج ماہِ رمضان کے دوران بنوں میں پیش آنے والے واقعے کے ناقابلِ تردید شواہد اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ دہشتگرد کارروائیاں افغانستان میں موجود قیادت اور ہینڈلرز کے ایما پر سرگرم خوارج عناصر نے انجام دیں۔
یہ بھی پڑھیے: بنوں: فورسز کے قافلے پر فتنہ الخوارج کا حملہ، لیفٹیننٹ کرنل اور سپاہی شہید
بیان کے مطابق ان حملوں کی ذمہ داری افغانستان میں موجود پاکستانی طالبان کے گروہ فتنہ الخوارج اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ ساتھ دولت اسلامیہ (داعش) خراسان نے بھی قبول کی ہے۔ دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے بارہا افغان عبوری حکومت پر زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین دہشتگرد گروہوں اور غیر ملکی پراکسی عناصر کے استعمال سے روکنے کے لیے قابلِ تصدیق اقدامات کرے، تاہم اس ضمن میں کوئی مؤثر اور ٹھوس کارروائی نہیں کی گئی۔
وزارت اطلاعات نے واضح کیا کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کا خواہاں ہے، لیکن اپنے شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ہر حال میں اولین ترجیح ہے۔ اسی تناظر میں پاکستان نے جوابی اقدام کے طور پر پاک افغان سرحدی علاقے میں انٹیلی جنس بنیادوں پر محدود اور ہدف پر مبنی کارروائی کی، جس میں فتنہ الخوارج اور اس سے منسلک عناصر اور داعش خراسان کے 7 دہشتگرد کیمپوں اور ٹھکانوں کو انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا گیا۔
Press Release
21 February, 2026In the aftermath of recent suicide bombing incidents in Pakistan, including Imam Bargah at Islamabad, one each in Bajaur and Bannu followed by another incident today in Bannu during the holy month of Ramzan, Pakistan has conclusive evidence that…
— Ministry of Information & Broadcasting (@MoIB_Official) February 21, 2026
بیان میں کہا گیا کہ کارروائی مکمل پیشہ ورانہ مہارت اور احتیاط کے ساتھ انجام دی گئی تاکہ عام شہریوں کو نقصان نہ پہنچے۔ پاکستان نے افغان عبوری حکومت سے ایک بار پھر مطالبہ کیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال ہونے سے روکے۔
یہ بھی پڑھیے: اقوام متحدہ اور عالمی قوانین کے تحت افغانستان کو جواب دینے کا حق رکھتے ہیں، ترجمان دفتر خارجہ
وزارت اطلاعات کے مطابق دوحہ معاہدے کے تحت افغان حکام پر لازم ہے کہ وہ اپنی سرزمین کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں، جو علاقائی اور عالمی امن کے لیے نہایت اہم ہے۔ پاکستان نے عالمی برادری سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ مثبت اور تعمیری کردار ادا کرے اور افغان حکام کو اپنی یقین دہانیوں پر عمل درآمد کے لیے آمادہ کرے۔
غیر ملکی خوارج کمانڈر ہلاک
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق مذکورہ کارروائی میں ایک غیر ملکی خوارج کمانڈر اختر کو اس دہشتگرد کیمپ میں ہلاک کر دیا گیا جہاں وہ روپوش تھا۔ حکام کے مطابق یہ کارروائی مصدقہ انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی گئی۔
قرآنِ پاک سے متعلق الزامات کی تردید
حکام نے بعض افغان سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانب سے حملے میں قرآنِ پاک کو نقصان پہنچنے کی تصاویر شیئر کیے جانے کے دعوؤں کو سختی سے مسترد کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ تصاویر جعلی اور گمراہ کن ہیں اور مذہبی جذبات کو بھڑکانے کے لیے دانستہ طور پر پھیلائی جا رہی ہیں۔
حکام نے واضح کیا کہ پاکستانی کارروائی میں کسی مدرسے یا مذہبی مقام کو نشانہ نہیں بنایا گیا اور نہ ہی قرآنِ پاک کو نقصان پہنچنے کا کوئی واقعہ پیش آیا۔ دفتر خارجہ کے مطابق اس قسم کا پروپیگنڈا دہشتگرد عناصر کے بیانیے کو تقویت دینے اور عوامی جذبات کو مشتعل کرنے کی کوشش ہے، جسے مؤثر انداز میں بے نقاب کیا جائے گا۔














