بنگلہ دیش کے سابق چیف ایڈوائزر اور نوبیل امن انعام یافتہ پروفیسر محمد یونس نے عبوری حکومت کی ذمہ داریاں مکمل کرنے کے بعد اپنی سابقہ پیشہ ورانہ سرگرمیوں کا دوبارہ آغاز کر دیا ہے اور اتوار کو ڈھاکا میں قائم یونُس سینٹر کا دورہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں:وفاقی وزیر احسن اقبال کی ڈھاکا میں بنگلہ دیشی چیف ایڈوائزر محمد یونس سے ملاقات، دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
تفصیلات کے مطابق نئی منتخب حکومت کو اقتدار منتقل کرنے کے چار روز بعد پروفیسر یونس میرپور، ڈھاکا میں واقع گرامین ٹیلی کام بھون میں قائم یونُس سینٹر پہنچے جہاں ان کے سابق ساتھیوں نے ان کا استقبال کیا۔ یونُس سینٹر کے سرکاری فیس بک پیج پر جاری بیان کے مطابق انہوں نے 18 ماہ تک عبوری انتظامیہ کی قیادت کرنے کے بعد باقاعدہ طور پر اپنی سرگرمیاں دوبارہ سنبھال لی ہیں۔
রাষ্ট্রীয় দায়িত্ব শেষে ইউনুস সেন্টারে ফিরলেন ড. ইউনূস https://t.co/kg3JwJNbj2
— 24 Live Newspaper (@24livenewspaper) February 22, 2026
دورے کے دوران پروفیسر یونس نے گرامین بینک کی شراکت دار تنظیموں کے نمائندوں، سینٹر کے منیجنگ ڈائریکٹر اور مشیروں سے ملاقاتیں کیں۔ یونُس سینٹر ایک بین الاقوامی تھنک ٹینک اور تحقیقی ادارہ ہے جو سماجی کاروبار کے اس تصور کو فروغ دیتا ہے جس کے بانی اور داعی خود پروفیسر یونس ہیں۔
پروفیسر محمد یونس، جو گرامین بینک کے بانی منیجنگ ڈائریکٹر بھی رہے، کو 2006 میں غربت کے خاتمے میں خدمات پر گرامین بینک کے ساتھ مشترکہ طور پر نوبیل امن انعام دیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:پروفیسر یونس کے روڈ میپ کی حمایت کرتے ہیں، نئے انتخابات کے بعد استحکام آئےگا، بنگلہ دیشی فوج
انہوں نے جولائی کی عوامی تحریک کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی تبدیلی کے دوران 8 اگست 2024 کو چیف ایڈوائزر کا حلف اٹھایا تھا۔ اس وقت وہ فرانس سے وطن واپس آئے تھے اور انہوں نے کہا تھا کہ قومی بحران کے دوران طلبہ رہنماؤں کی اپیل پر انہوں نے یہ ذمہ داری قبول کی۔
Yunus returns to think tank after 18 months as chief adviser amid speculations of Presidential role
Debdutta Chakraborty @debdutta_c reports #ThePrintForeignAffairs https://t.co/V8Xx94tNA2
— ThePrintIndia (@ThePrintIndia) February 22, 2026
اپنے دورِ اقتدار میں انہوں نے ادارہ جاتی اصلاحات اور عام انتخابات کی تیاری کو ترجیح دی۔ 12 فروری 2026 کو 13ویں پارلیمانی انتخابات منعقد ہوئے، جس کے بعد 17 فروری کو بی این پی نے حکومت تشکیل دی اور یوں عبوری انتظامیہ کا دور اختتام پذیر ہوا۔
چیف ایڈوائزر کے طور پر وہ اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس جمونا میں مقیم تھے، جبکہ یونُس سینٹر کے مطابق وہ رواں ماہ کے آخر میں گلشن میں اپنی رہائش گاہ منتقل ہو جائیں گے۔












