پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنماؤں نے کوٹ لکھپت جیل سے میڈیا کے لیے اہم مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور فلسطین کے مسئلے پر فوری کثیر الجماعتی کانفرنس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ بیان سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، ڈاکٹر یاسمین راشد، اعجاز چوہدری، میاں محمود الرشید اور عمر سرفراز چیمہ نے اپنے وکیل رانا مدثر عمر کے ذریعے جاری کیا۔
مزید پڑھیں: مذاکرات ہی مسائل کا واحد حل ہے، کوٹ لکھپت جیل میں قید پی ٹی آئی رہنماؤں کا خط سامنے آگیا
بیان میں کہا گیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام اور فلسطین کے مسئلے پر فوری کثیر الجماعتی کانفرنس منعقد ہونی چاہیے کیونکہ خطے میں 2 ریاستی حل اور انصاف کے بغیر پائیدار امن ممکن نہیں۔ رہنماؤں نے زور دیا کہ تمام فریقین فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت کی حمایت کا اعادہ کریں۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے ذریعے اعلان کردہ جنگ بندی کے بعد سے غزہ میں مسلسل خلاف ورزیوں کے نتیجے میں 6 سو سے زائد اموات ہو چکی ہیں، جو انتہائی تشویشناک ہیں۔ بیان میں سوال اٹھایا گیا کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے 4 مستقل اراکین بورڈ آف پیس کا حصہ بننے کے لیے کیوں تیار نہیں، اور کیا یہ انصاف ہے کہ اسرائیل کو رکنیت دی جائے جبکہ فلسطینیوں کو اس سے باہر رکھا جائے۔
رہنماؤں نے خبردار کیا کہ تہران کا 10 دنوں میں واشنگٹن کے ساتھ معاہدہ کرنے میں ناکام ہونا خطے کو جنگ کی طرف دھکیل سکتا ہے، جبکہ ایران میں عدم استحکام کے اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کارکن صنم جاوید کو کوٹ لکھپت جیل سے رہا کر دیا گیا
بیان میں مزید کہا گیا کہ بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزیوں نے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کو مزید بڑھایا ہے۔ افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ پارلیمنٹ میں فلسطینی مسئلے اور خطے کی صورتحال پر کوئی بامعنی بحث نہیں ہوئی۔
آخر میں مطالبہ کیا گیا کہ غزہ اور وسیع تر خطے میں امن و استحکام کے لیے قومی اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی خاطر فوری طور پر کثیر الجماعتی کانفرنس بلائی جائے۔














