گودام سے ضبط شدہ سگریٹ چوری کیس: چیئرمین ایف بی آر کو قائمہ کمیٹی نے طلب کر لیا

پیر 23 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ و انسدادِ منشیات کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی زیرِ صدارت منعقد ہوا جس میں صوابی اور مردان میں ایف بی آر کے گوداموں سے ضبط شدہ 2,828 کارٹن سگریٹ کی چوری کے معاملے کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سینیٹر محمد طلحہ محمود اور سینیٹر عمر فاروق نے بھی شرکت کی۔

یہ بھی پڑھیں: آر ٹی او پشاور کی کارروائی، سب سے بڑی غیر قانونی سگریٹ فیکٹری سیل کردی

کمیٹی نے چیئرمین ایف بی آر کی عدم موجودگی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ اس اہم عوامی نوعیت کے معاملے کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے آئندہ اجلاس میں ان کی حاضری لازمی ہوگی۔

کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ ضبط شدہ سامان 2024 میں قبضے میں لیا گیا تھا اور انٹرنل انکوائری کمیٹی کی سفارشات پر تین اہلکاروں، ایک چوکیدار، ایک نائب قاصد اور ایک ڈرائیور، کو برطرف کیا گیا۔ تاہم کمیٹی نے انکوائری رپورٹ میں پائے جانے والے تضادات پر سنجیدہ تحفظات کا اظہار کیا۔ کنوینر نے سوال اٹھایا کہ جب پولیس اور ایف آئی اے کی رپورٹس کے مطابق گودام میں لگائی گئی سِیل، چھت اور تالے درست حالت میں پائے گئے تو نچلے درجے کے ملازمین کو کس بنیاد پر ذمہ دار ٹھہرایا گیا اور آیا وہ اتنی مہارت سے چوری انجام دے سکتے تھے۔

کمیٹی نے اس امر پر بھی تشویش ظاہر کی کہ چوری کی درست تاریخ تاحال معلوم نہیں ہو سکی۔ کمیٹی نے تشویش کا اظہار کیا کہ ذمہ داری محض نچلے درجے کے عملے تک محدود دکھائی دیتی ہے جبکہ اعلیٰ افسران جوابدہی سے مبرا نظر آتے ہیں۔

مزید پڑھیے: پی آئی اے کا ملازم کراچی ایئرپورٹ پر سامان چوری کے الزام میں گرفتار

کمیٹی اراکین نے نامکمل ورکنگ پیپرز جمع کرانے پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ ایف آئی اے کی تحقیقاتی ٹیم نے کمیٹی کو بتایا کہ بارہا درخواستوں کے باوجود سی سی ٹی وی فوٹیج، اسٹاک رجسٹر اور انٹرنل انکوائری رپورٹ فراہم نہیں کی جارہی۔ کمیٹی نے اہم ریکارڈ ایف آئی اے کو فراہم نہ کیے جانے پر شدید تشویش ظاہر کی۔

کمیٹی نے اس فیصلے پر بھی سوال اٹھایا کہ ضبط شدہ سامان کو سی سی ٹی وی کیمروں سے لیس گودام سے ایسے گودام میں کیوں منتقل کیا گیا جہاں نگرانی کا کوئی نظام موجود نہیں تھا۔ کنوینر نے ایف بی آر کو ہدایت کی کہ منتقلی کا حکم دینے کی مجاز اتھارٹی کی تفصیلات اور انٹرنل انکوائری کمیٹی کی کارروائی سمیت مکمل دستاویزات فراہم کی جائیں۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ ایف بی آر نے سیکیورٹی نظام کو مزید مضبوط بنانے اور جامع ایس او پیز وضع کرنے کے اقدامات کیے ہیں، تاہم اراکین نے حالیہ چوری کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے 2012 سے اب تک کے ایسے تمام کیسز کی تفصیلات طلب کیں۔ کنوینر نے ہدایت کی کہ وہ اسٹاک ٹیکنگ افسران جنہوں نے سب سے پہلے چوری کا انکشاف کیا، آئندہ اجلاس میں پیش کیے جائیں۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں 54 فیصد سگریٹ غیر قانونی طور پر فروخت ہونے کا انکشاف

ذیلی کمیٹی نے ایف آئی اے کی تحقیقاتی ٹیم کی کاوشوں کو سراہا اور ایف بی آر کو مکمل تعاون کی ہدایت کی۔ کرپشن کے خاتمے پر زور دیتے ہوئے کنوینر نے کہا کہ کمیٹی ادارہ جاتی اصلاحات کی حامی ہے لیکن غفلت یا حقائق چھپانے کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ایف بی آر کے بورڈ ممبران، سیکرٹری لا ڈویژن اور دیگر متعلقہ حکام آئندہ اجلاس میں شرکت یقینی بنائیں۔

انہوں نے خاص طور پر ایسے معاملات میں جہاں افسران کے اثاثے مشکوک ہوں، سخت احتساب کی ضرورت پر زور دیا۔

یہ بھی پڑھیے: ’آسمان سے گرے کھجور میں اٹکے‘: ای سگریٹ گلے پڑگئی، بچے بھی لت میں مبتلا

آئندہ اجلاس میں چیئرمین ایف بی آر کی حاضری کو ناگزیر قرار دیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بلوچستان میں طوفانی بارش اور ژالہ باری سے تباہی، متعدد ہلاکتیں

مجھ سے جلنے والوں کی اپنی کوئی پہچان نہیں، دیدار کے الزامات پر ریشم کا سخت ردعمل

ماہرین کا گوگل پر زور: بچوں کے لیے یوٹیوب پر اے آئی ویڈیوز بند کریں

پاکستان کی لبنان میں اقوامِ متحدہ کے امن دستوں پر حملوں کی مذمت، جنگی جرم قرار

ٹرمپ کا ایران جنگ جاری رکھنے کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ

ویڈیو

سعودی عرب سے ترسیلات اور حجاز مقدس سے متعلق شہریوں کے خیالات

حج اور عمرہ کی یادیں جو آنکھوں کو نم کر دیں

پیغام پاکستان بیانیہ، محراب و منبر کی اصلاح اور عدالتی انصاف شدت پسندی ختم کر سکتا ہے: علّامہ عارف الواحدی

کالم / تجزیہ

’میں نے کہا تھا ناں کہ پھنس جائیں گے؟‘

ہز ماسٹرز وائس

ایران یا سعودی عرب: پاکستان کو مشکل فیصلہ کرنا پڑ سکتا ہے؟