علیمہ خان کب کب عمران خان کی رہائی میں رکاوٹ بنیں؟

منگل 24 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان 5 اگست 2023 سے جیل میں قید ہیں، 3 ماہ سے وکلا، پارٹی رہنماؤں اور فیملی سے ملاقاتوں پر پابندی عائد ہے جبکہ پارٹی کارکنان اور رہنماؤں کی جانب سے احتجاج دھرنے مذاکرات سب کچھ ہو جانے کے باوجود عمران خان کی رہائی نہیں ہو سکی ہے اب تو عمران خان کی ملاقاتوں کا سلسلہ بھی مکمل طور پر رک چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئے، شاندانہ گلزار کا علیمہ خان کے انٹرویو پر سخت ردعمل

عمران خان کی ملاقاتوں پر عائد پابندی اور اب تک مذاکرات میں پیشرفت نہ ہونے کی بہت سی دیگر وجوہات ہوں گی لیکن ان میں ایک بڑی اہم وجہ بانی چیئرمین پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان کے حالیہ اور سابقہ بیانات ہیں، پی ٹی آئی اور حکومت کے جب بھی مذاکرات شروع ہونے لگتے ہیں یا جب بھی حکومت کی جانب سے کسی لچک کا مظاہرہ کیا جاتا ہے تو علیمہ خان کی جانب سے ایسا بیان آ جاتا ہے کہ مذاکرات کے امکانات ختم ہو جاتے ہیں۔

24 نومبر 2024 کو جب عمران خان کی رہائی کے لیے علی امین گنڈاپور اور بشر بی بی کی قیادت میں اسلام اباد کی جانب مارچ کا فیصلہ کیا گیا تو پی ٹی ائی رہنماؤں نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی جانب سے عمران خان کی رہائی افر کی گئی تھی اور کہا یہ گیا تھا کہ مارچ کو سمجھانے کے مقام پر روک دیا جائے اس نتیجے میں عمران خان کو رہائی دے دی جائے گی تاہم علی امین گنڈا پور بشرا بی بی سمیت علیمہ خان بھی ان افراد میں شامل تھیں جو کہ اس بات پر بضد تھے کہ ہمیں ڈی چوک ہی جانا چاہیے اور وہاں جا کر احتجاج کرنا چاہیے۔

 علیمہ خان نے 24 نومبر احتجاج سے قبل اڈیالہ جیل کے باہر گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ عمران خان نے 24 نومبر کو احتجاج کی فائنل کال دی ہے جبکہ احتجاج پاکستان سمیت دنیا بھر میں کیا جائے گا اور مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھا جائے گا۔

مزید پڑھیے: علیمہ خان کی پی ٹی آئی پر قبضے کی خواہش اپنے عروج کو پہنچ چکی ہے، صحافی طلعت حسین کا دعویٰ

عمران خان نے کہا کہ میں براہ راست مخاطب ہو رہا ہوں، پارٹی ٹکٹ ہولڈرز اور تمام کارکنوں کو نکلنے کا کہا ہے تاکہ فیصلہ کیا جاسکے کہ انہیں آزادی میں رہنا ہے یا مارشل لا میں رہنا ہے۔ اس طرح اس احتجاج کے باعث 24 نومبر کو عمران خان کی رہائی ممکن نہ ہو سکی۔ متعدد پی ٹی آئی رہنماؤں کا خیال ہے کہ اگر 24 نومبر کو دھرنا سنگجانی کے مقام تک دیا جاتا تو حالات مختلف ہو سکتے تھے۔

گزشتہ سال دسمبر میں عمران خان کی جانب سے محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کو حکومت کے ساتھ مذاکرات کی ذمہ داری سونپی گئی جس کے بعد پی ٹی ائی چیئرمین بیرسٹر گوہر سمیت تمام رہنماؤں نے کہا کہ مذاکرات یا حکومت کے ساتھ بات چیت کے حوالے سے جو بھی فیصلہ محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کریں گے وہ پارٹی کو قبول ہوگا بیرسٹر گوہر نے وی نیوز کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے یہ تک کہہ دیا تھا کہ اگر محمود خان اچکزئی نے مذاکرات اگے بڑھانے کے لیے عمران خان کی رہائی کے مطالبے سے وقتی طور پر پیچھے ہٹنے کا کہا تو پارٹی محمود خان اچکزئی کا یہ مطالبہ بھی مان لے گی۔

عمران خان کے اس فیصلے کے بعد کہا یہ جا رہا تھا کہ اب مذاکرات شروع ہونگے اور عمران خان کی رہائی ممکن ہو گی البتہ دسمبر 2025 کو علیمہ خان نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا کہ پارٹی کا جو بھی لیڈر مذاکرات کی بات کرے گا، وہ بانی پی ٹی آئی کی جماعت اور قیادت کے ساتھ نہیں سمجھا جائے گا۔ ان کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے اسٹریٹ موومنٹ کا واضح پیغام خیبر پختونخوا کی قیادت کو دے دیا ہے اس لیے اس کی تیاری کی جائے۔

گزشتہ سال تحریک تحفظ ائین پاکستان نے 2 روزہ کانفرنس کا انعقاد کیا جس میں فواد چوہدری شاہد خاقان عباسی شیر افضل مروت اور دیگر سیاست دانوں نے شرکت کی اور انہوں نے یہ کہا کہ مذاکرات کے ذریعے ہی بات چیت کر کے معاملات کو اگے بڑھانا چاہیے تاکہ عمران خان اور کوٹ لگ بھگ جیل میں قید لیگل دیگر قیدیوں کو رہائی دلوائی جا سکے تاہم حلیمہ خان نے ایک مرتبہ پھر سے اس کاوش کو ماننے سے انکار کیا اور میڈیا پر تحریک تحفظ آئین پاکستان  کی 2 روزہ کانفرنس کے اعلامیے سے لاعلمی کا اظہار بھی کیا اور کہا کہ عمران خان کی رہائی تک کسی سے مذاکرات نہیں ہوں گے، مذاکرات کرنے والا ہم میں سے نہیں ہو گا، اور اس طرح عمران خان کی رہائی کی یہ کوشش بھی ناکام ہو گئی۔

مزید پڑھیں: علیمہ خان کے معاملے پر پی ٹی آئی تقسیم، کون سا رہنما ان کے حق میں اور کون مخالف؟

علیمہ خان نے رواں ماہ فروری کے آغاز میں کہا کہ محمود خان اچکزئی نے 8 فروری کو ملک گیر احتجاج کی کال دی ہے، ہم پورا پاکستان بند کریں گے، ملک نہیں چلنے دیں گے تاہم 9 فروری کو انہوں نے میڈیا پر بتایا کہ انہوں نے اور ان کے بیٹے نے 8 فروری کو لاہور میں بسنت منائی اور پتنگ بازی کی، عوام نے جس طرح 8 فروری 2024 کو خاموشی سے ووٹ دیا تھا اس مرتبہ بھی خاموشی سے احتجاج کیا ہے۔

چند دن قبل عمران خان کی بینائی اور صحت کے باعث حکومت نے ایک مرتبہ پھر سے عمران خان کی فیملی سے رابطہ کیا اور ان سے کہا کہ اپ اپنا معالج بھیج دیں تاکہ ان کے سامنے عمران خان کی انکھوں کا معائنہ ہو سکے تاہم علیمہ خان نے اس مرتبہ پھر سے کسی ڈاکٹر کے باعث کسی اور شخص کا نام تجویز کر دیا اور تجویز کرنے میں بھی تاخیر کی جس کے باعث عمران خان کا ان کے ذاتی یا فیملی معالج کے سامنے معائنہ نہیں ہو سکا۔

عمران خان کی ایک انکھ کی بینائی 85 فیصد متاثر ہونے کی خبروں کے بعد ایک مرتبہ پھر سے حکومت اور پی ٹی ائی کے درمیان مذاکرات کی بات شروع ہونے لگی حکومتی رہنماؤں نے یہ تک کہہ دیا کہ رواں ہفتے عمران خان کی ان کے اہلخانہ سے ملاقات کرا دی جائے گی جبکہ خبریں یہ بھی آنی شروع ہو گئیں کہ عمران خان کو علاج کے لیے اسپتال بھی منتقل کیا جائے گا تاہم اس موقع پر ایک مرتبہ پھر سے علیم خان کے سخت بیانات سامنے آئے جس کے بعد اب پھر سے حکومتی رہنماؤں نے یہ کہہ دیا ہے کہ ملاقاتوں کا کوئی امکان نہیں ہے عمران خان کی فیملی ملاقات کے بعد باہر ا کر سیاست یا سیاسی گفتگو کرتی ہے۔

18 فروری کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے علیمہ خان پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ علیمہ خان اپنے بھائی کے علاج میں رکاوٹ بنیں اور اس معاملے پر سیاست کی گئی، علیمہ خان بانی چیئرمین پی ٹی آئی کی بیماری کو کیش کروانا چاہتی تھیں اور وہ اکثر علاج معالجے سے منع کر دیتی تھیں جس کے باعث عمران خان کا 3 دن تک میڈیکل چیک اپ نہ ہو سکا۔

یہ بھی پڑھیے: علیمہ خان ڈیل کا کیا بنا؟ کیا رانا ثنا اللہ پی ٹی آئی سے کوئی کھیل کھیل رہے ہیں؟

انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت پی ٹی آئی کی سیاسی قیادت سے مسلسل رابطے میں رہی اور قیادت نے علاج پر اطمینان کا اظہار کیا۔

محسن نقوی کے اس بیان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ عمران خان سے اہلخانہ کی ملاقاتوں میں اور اسپتال میں علاج کے لیے حکومت سنجیدہ تھی تاہم علیمہ خان کی جانب سے یہ موقع بھی گوا دیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

جدہ میں اہم سفارتی سرگرمیاں، بنگلہ دیشی وزیر خارجہ کی کلیدی ملاقاتیں

سعودی عرب کا غزہ میں قائم کچن، روزانہ 36 ہزار خاندانوں کو کھانا فراہم کرے گا

طالبان کے بارے میں استاد صاحب سچے ثابت ہوئے

سعودی عرب: وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی او آئی سی اجلاس میں شرکت

کوہاٹ: لیڈی ڈاکٹر کے قتل کا معمہ حل، 2 ملزمان گرفتار

ویڈیو

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

آپریشن غضب للحق: 133 افغان طالبان کارندے ہلاک، 2 کور ہیڈکوارٹرز سمیت متعدد اہم ترین فوجی مراکز تباہ

بہن بھائیوں میں حسد کیوں پیدا ہوتا ہے، حضرت یوسفؑ کی کہانی ہمیں کیا سبق سکھاتی ہے؟

کالم / تجزیہ

طالبان کے بارے میں استاد صاحب سچے ثابت ہوئے

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟