برطانوی اخبار دی گارجین کی تفصیلی رپورٹ کے مطابق روس کے یوکرین پر حملے سے قبل امریکی اور برطانوی خفیہ اداروں نے ماسکو کے منصوبوں کے بارے میں غیرمعمولی حد تک درست معلومات حاصل کر لی تھیں، تاہم یورپی ممالک اور خود یوکرین کی سیاسی قیادت نے ابتدا میں ان انتباہات کو سنجیدگی سے قبول نہیں کیا۔
رپورٹ کے مطابق نومبر 2021 میں سی آئی اے کے ڈائریکٹر ولیم برنز نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو ممکنہ حملے کے سنگین نتائج سے آگاہ کرنے کی کوشش کی، مگر انہیں براہِ راست ملاقات کے بجائے فون کال تک محدود رکھا گیا۔ واشنگٹن واپسی پر انہوں نے صدر جو بائیڈن کو واضح طور پر بتایا کہ روس حملہ کر سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: امریکی ثالثی میں روس یوکرین مذاکرات کا کوئی نتیجہ نہ نکل سکا، ابوظبی بیٹھک بغیر کسی پیشرفت کے ختم
امریکی اور برطانوی انٹیلی جنس اداروں نے سیٹلائٹ تصاویر، روسی فوجی نقل و حرکت اور حساس مواصلاتی شواہد کی بنیاد پر اندازہ لگایا کہ ماسکو کییف پر قبضے کی تیاری کر رہا ہے۔ تاہم فرانس اور جرمنی سمیت بعض یورپی حکومتوں کا خیال تھا کہ یہ دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی ہے، مکمل جنگ نہیں۔
یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے بھی عوامی سطح پر جنگ کے خدشات کو کم کرکے پیش کیا تاکہ معیشت اور عوام میں خوف و ہراس پیدا نہ ہو۔ رپورٹ کے مطابق فوجی قیادت نے محدود تیاری ضرور کی، مگر سیاسی سطح پر ہنگامی اقدامات میں تاخیر ہوئی۔
یہ بھی پڑھیے: روس اور یوکرین کی جانب سے ایک دوسرے کے توانائی انفراسٹرکچرز پر شدید حملے
24 فروری 2022 کو روس نے ‘خصوصی فوجی آپریشن’ کا اعلان کرتے ہوئے یوکرین پر ہمہ گیر حملہ کر دیا۔ دی گارجین کے مطابق یہ واقعہ عالمی انٹیلی جنس برادری کے لیے واضح سبق ہے کہ بظاہر ناممکن دکھائی دینے والے خطرات کو بھی نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔














