بنگلہ دیش کے وزیر داخلہ صلاح الدین احمد نے اعلان کیا ہے کہ حکومت نے مزید 1,202 ایسے مقدمات واپس لینے کی منظوری دے دی ہے جنہیں سیاسی طور پر محرک قرار دیا گیا ہے اور جو مبینہ طور پر سابقہ حکومت کے 17 سالہ دورِ اقتدار میں درج کیے گئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش نے محمد علی حسین فقیـر کو نیا انسپکٹر جنرل پولیس مقرر کردیا
منگل کے روز بنگلہ دیش سیکریٹریٹ میں وزارتِ داخلہ کے دفتر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ داخلہ نے بتایا کہ اس سے قبل بھی 1,006 ایسے ہی مقدمات واپس لینے کی منظوری دی جا چکی ہے جو اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف درج تھے۔
صلاح الدین احمد نے واضح کیا کہ سنگین نوعیت کے جرائم جن میں قتل، منشیات، اسلحہ، دھماکہ خیز مواد اور خواتین و بچوں کے خلاف تشدد جیسے مقدمات شامل ہیں اس عمل میں شامل نہیں کیے گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ صرف اُن مقدمات کا جائزہ لیا جا رہا ہے جنہیں سیاسی انتقام یا ہراسانی کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔
مزید پڑھیے: بنگلہ دیش حکومت نے 9 سیکریٹریز کی کنٹریکٹ تقرریاں منسوخ کردیں
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ایسے مزید مقدمات واپس لینے کی تیاری کر رہی ہے تاہم ہر کیس کی باریک بینی سے جانچ پڑتال کی جائے گی تاکہ یہ تصدیق ہو سکے کہ وہ واقعی سیاسی نوعیت کا ہے۔
اس مقصد کے لیے جلد ہی ایک تصدیقی کمیٹی قائم کیے جانے کا امکان ہے تاکہ اس عمل کے غلط استعمال کو روکا جا سکے۔ اس حوالے سے آئندہ ایک یا دو دن میں فیصلہ متوقع ہے۔
5 اگست 2024 کے بعد درج ہونے والے مقدمات سے متعلق سوال کے جواب میں وزیرِ داخلہ نے کہا کہ سیاسی تبدیلی کے بعد درج کی گئی بعض شکایات ذاتی فائدہ حاصل کرنے کے لیے کی گئی تھیں اور ان میں عام اور بے گناہ افراد کو نامزد کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ حکام ان مقدمات کا بھی جائزہ لیں گے تاکہ حقائق سامنے لائے جا سکیں۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش میں بڑے پیمانے پر انتظامی ردوبدل کا آغاز، فوج اور سول بیوروکریسی میں اہم تبدیلیاں
وزیرِ داخلہ نے حکومت کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے اور کسی بھی شہری کو غیر ضروری یا ہراساں کن مقدمات کا نشانہ بننے سے بچانے کے لیے پرعزم ہے۔














