گرینڈ الائنس بلوچستان نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک کو مزید شدت دیتے ہوئے صوبہ بھر کے سرکاری اداروں میں 2 روزہ لاک ڈاؤن ہڑتال کا آغاز کر دیا ہے۔ اس اقدام کے تحت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سرکاری دفاتر بند کر دیے گئے ہیں جبکہ الائنس اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے سرگرم ہے۔
گرینڈ الائنس کے نمائندوں کے مطابق ہڑتال کے دوران متعدد سرکاری محکموں کی سرگرمیاں معطل رہیں گی۔ الائنس کا مؤقف ہے کہ حکومت ان کے مسائل حل کرنے کے بجائے ملازمین کے خلاف جبری برطرفیوں اور تادیبی کارروائیوں کا سہارا لے رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:کوئٹہ: ڈاکٹرز کی دوسرے روز بھی ہڑتال، سرکاری اسپتالوں میں معمول کی طبی خدمات معطل
البتہ گرینڈ الائنس نے واضح کیا ہے کہ ضروری طبی خدمات اس ہڑتال سے متاثر نہیں ہوں گی۔ صوبے بھر کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی اور حادثاتی شعبے معمول کے مطابق کام کرتے رہیں گے تاکہ عوام کو ہنگامی طبی سہولیات کی فراہمی جاری رہے۔
الائنس نے اعلان کیا ہے کہ 15 جون کو کوئٹہ پریس کلب کے سامنے ایک احتجاجی کیمپ قائم کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ بلوچستان کے تمام اضلاع میں مظاہروں کا بھی اہتمام کیا جائے گا تاکہ تحریک کو صوبہ بھر میں وسعت دی جا سکے اور زیادہ سے زیادہ ملازمین اور حامیوں کو متحرک کیا جا سکے۔

گرینڈ الائنس بلوچستان نے آئندہ صوبائی بجٹ اجلاس کے دوران دھرنا دینے کا بھی اعلان کیا ہے۔ اگر حکومت اور الائنس کے درمیان مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو اس اقدام سے حکومت پر دباؤ میں مزید اضافہ متوقع ہے۔
صوبائی حکومت کی جانب سے اب تک احتجاج اور ہڑتال کے اس نئے مرحلے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو مختلف سرکاری محکموں کی انتظامی سرگرمیاں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں:لیڈی ڈاکٹر پر تیزاب گردی کے اندوہناک واقعے کے خلاف کوئٹہ میں احتجاج، ماہرہ خان بھی بول پڑیں
یاد رہے کہ گرینڈ الائنس بلوچستان مختلف سرکاری محکموں کے ملازمین کی نمائندہ تنظیموں پر مشتمل ایک اتحاد ہے جو ملازمین کے سروس سے متعلق مسائل، ملازمتوں کے تحفظ اور بہتر کام کے حالات کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔














