سندھ کابینہ نے سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کے لیے 7 ارب روپے کے معاوضے کی منظوری دے دی ہے۔
وزیر اعلیٰ سندھ کے ترجمان کے مطابق کابینہ نے ضروری اشیا کی قیمتیں کنٹرول کرنے کے لیے اقدامات کی منظوری دی ہے جس کے بعد ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز کو خصوصی مجسٹریٹ کے اختیارات تفویض کر دیے گئے ہیں۔
مزید پڑھیں: سانحہ گل پلازہ کے متاثرہ تاجروں کے لیے 300 عارضی دکانوں کا قیام
ان حکام کو پرائس کنٹرول ایکٹ کے تحت فوری جرمانہ عائد کرنے اور کارروائی کرنے کا بھی اختیار حاصل ہوگا۔
وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہاکہ قیمتوں میں غیر قانونی اضافہ کرنے والوں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے گی اور عوام کو ریلیف فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہاکہ سخت نگرانی جاری رکھی جائے گی اور ماہ رمضان میں سرکاری نرخوں پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔
کابینہ نے وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ کی فنانس کمیٹی کی سفارشات بھی منظور کر لیں۔
ترجمان کے مطابق شہر کی سڑکوں کی بحالی کے لیے 8 ارب 53 کروڑ روپے کی منظوری دی گئی، جبکہ سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کے لیے سات ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
اسی اجلاس میں آئی آئی چندریگر روڈ پر تاریخی عمارت کے تحفظ کے لیے ایک ارب 57 کروڑ روپے مختص کیے گئے، حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے لیے 5 ارب 20 کروڑ روپے کی گرانٹ منظور کی گئی اور کچے کے علاقوں میں آپریشن کے لیے سندھ پولیس کو 56 کروڑ روپے فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
مزید پڑھیں: سانحہ گل پلازہ: جوڈیشل کمیشن نے سوال نامہ تیار کر لیا، لواحقین سے کیا سوال پوچھے گئے ہیں؟
مزید برآں نوجوانوں کی تربیت کے لیے پیپلز آئی ٹی پروگرام فیز 2 کے تحت 90 کروڑ روپے کی منظوری بھی دی گئی ہے۔













