امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایپل نے اپنے میک منی ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر کی کچھ پیداوار ایشیا سے امریکا منتقل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ کمپنی کے مطابق نئی مینوفیکچرنگ سرگرمیاں اس سال کے آخر تک امریکی شہر ہیوسٹن میں قائم مرکز میں شروع کی جائیں گی۔
ایپل کا کہنا ہے کہ ہیوسٹن میں اپنی فیکٹری کو مزید وسعت دی جا رہی ہے، جہاں جدید مینوفیکچرنگ کے لیے ایک نیا تربیتی مرکز بھی قائم کیا جائے گا۔ کمپنی کے مطابق اس اقدام سے ہزاروں نئی ملازمتیں پیدا ہوں گی اور مقامی صنعتی شعبے کو تقویت ملے گی۔
یہ بھی پڑھیں: حکومتی مراعات: ایپل کمپنی پاکستان میں آئی فون تیار کرے گی
یہ منصوبہ ایپل کی امریکا میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کے تحت کمپنی آئندہ 4 برسوں میں 600 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی۔ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایپل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ٹم کک سے گفتگو میں کہا تھا کہ کمپنی اپنی پیداواری سہولیات بھارت کے بجائے امریکا میں بڑھائے۔
صدر ٹرمپ نے بیرون ملک تیار ہونے والی مصنوعات پر 25 فیصد ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی بھی دی تھی، جس کے بعد عالمی سطح پر مینوفیکچرنگ فیصلوں پر اثرات مرتب ہوئے۔ حال ہی میں امریکا نے بعض درآمدی اشیا پر 10 فیصد نیا ٹیرف بھی نافذ کیا ہے۔
ٹم کک نے اپنے بیان میں کہا کہ ایپل امریکی مینوفیکچرنگ کے مستقبل کے لیے مکمل طور پر پُرعزم ہے۔ کمپنی نے گزشتہ سال ہیوسٹن میں مصنوعی ذہانت کے سرورز کی پیداوار بھی شروع کی تھی، جس کی رفتار توقع سے بہتر رہی۔
یہ بھی پڑھیں: ایپل کی مارچ میں متعارف ہونے والی 5 اہم مصنوعات کونسی ہیں؟
اس کے باوجود ایپل کی زیادہ تر مصنوعات اب بھی ایشیا، خصوصاً چین میں تیار کی جاتی ہیں، جبکہ حالیہ برسوں میں کمپنی نے اپنی کچھ پیداوار ویتنام، تھائی لینڈ اور بھارت بھی منتقل کی ہے تاکہ سپلائی نظام کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق ایپل کا یہ اقدام عالمی تجارتی دباؤ اور ٹیرف پالیسیوں کے تناظر میں امریکا میں صنعتی صلاحیت بڑھانے کی اہم پیش رفت ہے۔














