افغان طالبان کی طور خم اور تیراہ میں بلااشتعال فائرنگ، پاک فوج کا موثر جواب

منگل 24 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

افغان طالبان نے خیبرپختونخوا کے علاقے طورخم اور تیراہ کے مختلف مقامات پر بلااشتعال فائرنگ کی ہے۔

وزیرِاعظم کے ترجمان مشرف زیدی نے منگل کو بتایا کہ افغان طالبان انتظامیہ نے پاک افغان سرحد پر طورخم اور تیراہ کے علاقوں میں بلا اشتعال فائرنگ شروع کی، جس کا پاکستان کی سکیورٹی فورسز  نے فوری اور مؤثر جواب دیا۔

یہ بھی پڑھیں: افغان مہاجرین کی باعزت واپسی، اپنی سرزمین ایک دوسرے کیخلاف استعمال نہیں ہونے دینگے، پاکستان افغانستان کا اتفاق

ترجمان نے کہا کہ کسی بھی اشتعال انگیزی کا جواب فوری اور سخت انداز میں دیا جائے گا اور پاکستان اپنے شہریوں کی حفاظت اور سرحدی سالمیت کو برقرار رکھنے کے لیے اقدامات جاری رکھے گا۔

یہ پیشرفت اس کے بعد سامنے آئی ہے کہ پاکستان نے گزشتہ ہفتے افغان صوبوں ننگرہار اور پکتیکا میں دہشتگرد کیمپوں اور ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، جس میں سرکاری ذرائع کے مطابق 80 سے زائد دہشت گرد مارے گئے۔ یہ کارروائی گزشتہ اکتوبر میں سرحدی جھڑپوں کے بعد دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان سب سے بڑی فوجی مہم تھی۔

وزارتِ اطلاعات کے مطابق یہ فضائی حملے ان دہشت گردانہ کارروائیوں کے جواب میں کیے گئے جن میں اسلام آباد کی امام بارگاہ اور بنوں و باجوڑ میں ہونے والے حملے شامل ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ دہشتگرد یہ حملے افغان سرزمین پر مقیم قیادت کی ہدایات پر کررہے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی کے پیچھے افغانستان، بنوں حملے کے تانے بانے بھی کابل سے جا ملے

وزارت نے مزید کہا کہ پاکستان نے خوارج یا ممنوعہ تحریکِ طالبان پاکستان اور اس کے اتحادیوں کے سات دہشتگرد کیمپوں اور ٹھکانوں کو انتہائی درستگی اور احتیاط کے ساتھ نشانہ بنایا۔

سرحدی کشیدگی اضافہ اس وقت دیکھنے میں آیا جب 16 فروری کو باجوڑ میں افغان سرحد کے نزدیک مشترکہ سکیورٹی فورسز کے پوسٹ پر خودکش حملہ ہوا، جس میں 11 پاکستانی سپاہی شہید اور ایک بچی سمیت 7 افراد زخمی ہوئے۔ حملے کی ذمہ داری تحریکِ طالبان پاکستان نے قبول کی، جبکہ حملہ آور افغان طالبان کے خصوصی دستے کا رکن تھا۔

پاک فوج کے مطابق دہشتگرد افغان سرزمین کا استعمال پاکستان میں حملے کرنے کے لیے کر رہے ہیں اور رمضان کے مقدس مہینے کی حرمت کی خلاف ورزی کررہے ہیں۔ پاک فوج نے واضح کیا کہ پاکستان کسی تفریق کے بغیر دہشتگردوں کے خلاف کارروائی جاری رکھے گا، قطع نظر اس کے کہ وہ کس مقام پر ہوں۔

یہ بھی پڑھیں: افغانستان کے اندر ٹی ٹی پی کے دہشتگرد ٹھکانوں پر حملہ کیا، پاکستان

دفاعی وزیر خواجہ آصف نے 19 فروری کو خبردار کیا تھا کہ اگر سرحد پار سے حملے جاری رہے تو پاکستان افغان سرزمین پر بھی کارروائی کرنے سے گریز نہیں کرے گا، اور فوجی آپشنز ہر وقت دستیاب ہیں۔

گزشتہ سال نومبر میں افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان نے صوبہ خوست میں بمباری کی اور کنر و پکتیکا میں فضائی حملے کیے، جس کی پاکستان نے تصدیق یا تردید نہیں کی تھی۔

پاک افغان سرحد پر گزشتہ اکتوبر میں ہونے والی جھڑپوں میں 23 پاکستانی فوجی شہید اور 200 سے زائد طالبان و اتحادی دہشت گرد مارے گئے تھے۔ جھڑپیں اسی وقت شروع ہوئیں جب افغان طالبان اور بھارت کی حمایت یافتہ خوارج نے بلا اشتعال پاکستان پر حملہ کیا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp