وزیراعظم شہباز شریف نے حال ہی میں اسلام آباد میں منعقدہ اے آئی ویک سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ حکومت پاکستان 2030 تک مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ایک ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی۔ وزیراعظم کے مطابق اس اقدام کا مقصد ملک میں ایک مضبوط اور جدید اے آئی ایکو سسٹم قائم کرنا، نوجوانوں کو مستقبل کی ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنا اور پاکستان کو ڈیجیٹل معیشت میں نمایاں مقام دلانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کے تحت وفاقی اسکولوں میں اے آئی نصاب متعارف کرایا جائے گا جس کا دائرہ کار آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان تک بھی بڑھایا جائے گا۔ اس کے علاوہ حکومت 2030 تک ایک ہزار مکمل فنڈڈ پی ایچ ڈی اسکالرشپس فراہم کرے گی، جبکہ آئندہ چند برسوں میں 10 لاکھ نان آئی ٹی پروفیشنلز کو اے آئی مہارتوں کی تربیت دینے کے لیے قومی سطح کا پروگرام بھی شروع کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیے: اگلے 10 برسوں میں اے آئی ایک سپر پاور بن جائے گی، فوری نمٹنا ہوگا، سربراہ گوگل ڈیپ مائنڈ
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یہ سرمایہ کاری نہ صرف تعلیمی میدان میں انقلاب برپا کرے گی بلکہ زراعت، صنعت اور تجارت سمیت مختلف شعبوں میں جدت اور معاشی ترقی کا باعث بھی بنے گی۔
یہ منصوبہ سننے میں تو کافی متاثر کن ہے، مگر عملی طور پر کیا ایسا ممکن ہوگا؟
اس حوالے سے بات کرتے ہوئے سابق چیئرمین پاشا محمد زوہیب نے کہا کہ انڈس اے آئی ویک 2026 کا اعلان وزیرِ اعظم کی جانب سے کیا گیا، اور ایک ارب ڈالر کی مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری پاکستان کے مستقبل کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔
ان کے مطابق یہ اقدام ملک کی ڈیجیٹل سمت کو درست کرنے والا ایک تاریخی قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا تیزی سے ایسے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں مصنوعی ذہانت معیشت، تعلیم، صنعت، تجارت، صحت اور حکمرانی سمیت ہر شعبے کی بنیاد بنتی جا رہی ہے، اس لیے پاکستان کے لیے مزید تاخیر کی کوئی گنجائش نہیں رہی۔
محمد زوہیب کے مطابق اگر اس سرمایہ کاری کو واضح حکمتِ عملی اور مؤثر منصوبہ بندی کے ساتھ استعمال کیا جائے تو یہ لاکھوں نوجوانوں کے لیے جدید مہارتیں سیکھنے اور روزگار حاصل کرنے کے وسیع مواقع پیدا کر سکتی ہے، جبکہ ملک میں جدت، تحقیق اور ٹیکنالوجی پر مبنی کاروبار کو بھی مضبوط بنا سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ڈیجیٹل سینز اور اے آئی اسٹوڈیوز، چین کی فلمی دنیا میں مصنوعی ذہانت کا انقلاب
انہوں نے زور دیا کہ جامعات، فنی اداروں اور نجی شعبے کے درمیان عملی اشتراک کے ذریعے ایسی افرادی قوت تیار کی جا سکتی ہے جو عالمی معیار کے مصنوعی ذہانت کے حل تیار کرے اور پاکستان کو صرف ٹیکنالوجی استعمال کرنے والا نہیں بلکہ اسے تخلیق کرنے والے ممالک کی صف میں شامل کرے۔
انہوں نے مزید کہا کہ محض سرمایہ مختص کرنا کافی نہیں ہوگا بلکہ جدید ڈیٹا مراکز کا قیام، تیز رفتار کمپیوٹنگ نظام، مقامی زبانوں پر مبنی معیاری ڈیٹا کی تیاری، تحقیق کے لیے مستقل فنڈنگ، اور شفاف و مستحکم پالیسی فریم ورک کی تشکیل بھی ناگزیر ہے۔ ان کے خیال میں اگر پاکستان اپنی ضروریات کے مطابق خودمختار مصنوعی ذہانت کا نظام تیار کرتا ہے تو اس سے قومی سلامتی، معاشی خودانحصاری اور ڈیجیٹل خودمختاری مزید مضبوط ہوں گی۔
محمد زوہیب نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اس منصوبے کی حقیقی کامیابی حکومت، صنعت، تعلیمی اداروں، سرمایہ کاروں اور عالمی شراکت داروں کے درمیان مضبوط اور مسلسل تعاون سے مشروط ہے۔ درست نگرانی، واضح اہداف اور شفاف عملدرآمد کے ذریعے یہی سرمایہ کاری پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ، نئے کاروباری مواقع کی تیز رفتار ترقی، اور عالمی ڈیجیٹل معیشت میں مضبوط مقام حاصل کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: کیا عالمی اے آئی ریس ہنڈن برگ طرز کے سانحے پر ختم ہوسکتی ہے؟
ان کے مطابق یہ صرف مالی اعلان نہیں بلکہ پاکستان کے لیے ایک اسٹریٹجک موقع ہے جسے قومی ترجیح بنا کر نوجوانوں کی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر نمایاں کیا جا سکتا ہے اور ملک کو مصنوعی ذہانت کے میدان میں ایک باوقار اور خودمختار طاقت بنایا جا سکتا ہے۔
اے آئی ایکسپرٹ احسن مشکور کے مطابق وزیرِاعظم شہباز شریف کی طرف سے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کو صرف رقم کے حجم سے نہیں جانچنا چاہیے بلکہ اس کے اسٹریٹجک اور طویل مدتی اثرات کو سمجھنا زیادہ ضروری ہے۔ ان کے نزدیک یہ سرمایہ کاری ایک علامتی اور بنیاد رکھنے والا قدم ہے، جو اگر درست پالیسی، تعلیم اور صنعت کے اشتراک کے ساتھ آگے بڑھایا جائے تو پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کا رخ بدل سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں ٹیکنالوجی کی ترقی اکثر چھوٹے مگر درست سمت میں کیے گئے اقدامات سے شروع ہوتی ہے۔ ایک ارب ڈالر عالمی سطح پر شاید بہت بڑی رقم نہ سمجھی جائے، مگر پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں یہ سرمایہ بنیادی ڈھانچہ بنانے، ریسرچ فنڈنگ شروع کرنے اور ٹیلنٹ تیار کرنے کے لیے کافی ہو سکتا ہے۔ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ یہ سرمایہ کہاں اور کیسے استعمال ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: سعودی آرامکو اور مائیکروسافٹ کا معاہدہ، صنعتی شعبے میں مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل صلاحیتوں کو فروغ دینے کا منصوبہ
ڈیجیٹل رائٹس ماہر اسامہ خلجی کا کہنا تھا کہ اگرچہ یہ اقدام بظاہر مستقبل کی ٹیکنالوجی کی جانب ایک مثبت قدم ہے، تاہم زمینی حقائق کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق ایسے ملک میں جہاں شرحِ خواندگی اب بھی کم ہے اور پبلک ایجوکیشن سسٹم کے متعدد اسکولوں میں بنیادی سہولیات حتیٰ کہ کمپیوٹر لیب تک موجود نہیں، وہاں ترجیح سب سے پہلے بنیادی انفراسٹرکچر کی بہتری ہونی چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اے آئی کو نصاب کا حصہ بنانے کے ساتھ ساتھ ملک کی ماحولیاتی صورتحال کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق بڑے پیمانے پر ڈیٹا سینٹرز اور ٹیکنالوجی انفراسٹرکچر کے قیام سے توانائی کی کھپت میں اضافہ ہوگا، اس لیے یہ ناگزیر ہے کہ کسی بھی بڑے منصوبے سے قبل اس کے ماحولیاتی اثرات کی جامع جانچ کی جائے تاکہ یہ سرمایہ کاری پاکستان کی موسمیاتی تبدیلی کے اہداف سے متصادم نہ ہو۔
واضح رہے کہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے وزیراعظم کے اعلان کے بعد اے آئی کو باقاعدہ اعلیٰ تعلیمی نصاب کا حصہ بنانے کے لیے اہم ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان 2030 تک مصنوعی ذہانت میں ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا، وزیراعظم شہباز شریف
ایچ ای سی نے تعلیمی سال 2026 سے ملک بھر کے تمام انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ ڈگری پروگرامز میں مصنوعی ذہانت کا 3 کریڈٹ آورز پر مشتمل کورس لازمی قرار دے دیا ہے۔ ایچ ای سی کے مطابق یہ ہدایت نامہ سرکاری اور نجی شعبے کے تمام اعلیٰ تعلیمی اداروں پر لاگو ہوگا۔ جامعات کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ بغیر کسی تاخیر کے لازمی اے آئی کورس کو اپنے نصاب کا حصہ بنائیں۔
تفصیلات کے مطابق یہ کورس بطور اختیاری مضمون، بین الشعبہ جاتی کورس یا موجودہ پروگرام کے ڈھانچے میں معاون مضمون کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔
ایچ ای سی نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں نصاب میں مصنوعی ذہانت کو شامل کرنا محض ایک اضافہ نہیں بلکہ ایک ضرورت ہے۔ اس کا مقصد طلبہ کو وہ علم اور مہارتیں فراہم کرنا ہے جن کی مدد سے وہ اپنے اپنے شعبوں میں مصنوعی ذہانت کے آلات کو مؤثر طریقے سے استعمال کر سکیں اور اپنی تعلیمی و پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بہتر بنا سکیں۔














