وفاقی آئینی عدالت کے 2 رکنی بینچ نے محکمہ تعلیم سندھ میں خاتون رابیل بھٹو کی بطور ٹیچر تقرری کے معاملے کو غور کے لیے ڈسٹرکٹ ریکروٹمنٹ کمیٹی کو بھجوا دیا۔
سماعت کے دوران جسٹس روزی خان نے ریمارکس دیے کہ یہ کنٹریکٹ کی ملازمت تھی اور اس معاملے کو 15 سال گزر چکے ہیں، اب تو یہ بھی معلوم نہیں کہ متعلقہ پروجیکٹ چل رہا ہے یا نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ: معطل سرکاری ملازم پوری تنخواہ اور مراعات کا حقدار ہے
درخواست گزار کے وکیل صلاح الدین نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کی موکلہ کو میرٹ کے باوجود نوکری سے محروم رکھا گیا۔
انہوں نے عدالت کو بتایا کہ کنٹریکٹ ٹیچر کی تعیناتی کا پروجیکٹ ابھی تک جاری ہے اور عدالت سے استدعا کی کہ ان کی موکلہ کو انصاف فراہم کیا جائے۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ خاتون 16 سال سے مقدمہ لڑ رہی ہے۔ اگر کنٹریکٹ کی ملازمت کا پروجیکٹ موجود ہے تو ان کے نام پر غور کیا جائے۔
مزید پڑھیں: 27ویں ترمیم کے بعد سپریم کورٹ کے آئینی تشریح، قانون سازی کے جائزے کا اختیار ختم ہو گیا ہے، وفاقی آئینی عدالت
انہوں نے کہا کہ ٹیچرز کی پوسٹیں خالی ہوتی رہتی ہیں۔
سماعت کے دوران جسٹس حسن اظہر رضوی نے سندھ کے اسکولوں کی صورتحال پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ سندھ اسکولوں کی حالت سب کو معلوم ہے، وہاں تو صرف تنخواہ لینے والے ٹیچرز ہوتے ہیں۔
عدالت نے دلائل سننے کے بعد خاتون ٹیچر کی تقرری کا معاملہ غور کے لیے متعلقہ ڈسٹرکٹ ریکروٹمنٹ کمیٹی کو بھجوا دیا۔












