سابق کپتان محمد حفیظ اور سابق اسپنر ثقلین مشتاق کے درمیان لائیو شو میں شاداب خان کے کھیل کے کردار کو لے کر بحث دیکھنے کو ملی۔
محمد حفیظ نے ثقلین مشتاق سے سوال کیا کہ شاداب خان بولنگ آل راؤنڈر ہیں یا بیٹنگ آل راؤنڈر؟ اس پر شاداب خان کے سسر ثقلین مشتاق نے داماد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ شاداب دونوں خصوصیات کے حامل ہیں اور انہیں کسی ایک فریم میں محدود نہیں کیا جا سکتا۔
یہ بھی پڑھیں: ’رمضان آ رہا ہے آپ کو اپنی ڈیوٹی کا پتہ چل گیا ہوگا‘، اگلے میچ سے قبل شاداب خان کا فینز کو خصوصی پیغام
حفیظ نے اس پر سوال بڑھاتے ہوئے پوچھا کہ ٹیم میں ان کی پہلی ترجیح کیا ہے بیٹنگ یا بولنگ؟ ثقلین مشتاق نے جواب دیا کہ شاداب دونوں میں اچھا ہے۔ محمد حفیظ نے اعتراض کیا کہ اگر ایسا ہے تو پھر نمبر پانچ پر کھیلنے کیوں نہیں آتا؟
🚨🚨 HEATED ARGUMENT BETWEEN HAFEEZ AND SAQLAIN MUSHTAQ🚨
-Saqlain is trying to defend his son-in-law
-Hafeez asking why is he in team ? What are his first priority in the team ?
• Shadab is the biggest Parchi after Babar Azam ❗pic.twitter.com/o4sm5MbhFh
— SheR•ALI (@Sher__Ali) February 24, 2026
ثقلین مشتاق نے کہا کہ شاداب کو ٹیم میں نمبر پانچ پر بھی استعمال کیا گیا ہے اور انہوں نے خود اسے اس پوزیشن پر کھلایا ہے۔ محمد حفیظ نے دوبارہ سوال دہرایا کہ آپ کے خیال میں وہ بنیادی طور پر بیٹر ہیں یا بولر؟
ثقلین مشتاق نے وضاحت کی کہ شاداب میں پوٹینشل ہے وہ بیٹنگ بھی کر لیتے ہیں اور حالیہ دو تین میچز میں اپنی بیٹنگ سے ٹیم کو جتوایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ شاداب درست انتخاب ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ہمارا فوکس ورلڈ کپ جیتنے پر ہے، شاداب خان کا بھارت سے ہار پر تنقید کرنے والوں کو جواب
محمد حفیظ نے اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ وہ خود کو آؤل راؤنڈر کہتے تھے لیکن ان کی پہلی ذمہ داری بیٹنگ تھی۔ اگر بیٹنگ میں کچھ کارکردگی نہ ہو تو میرے آٹھ چھ یا چار اوور میرے کسی کام کے نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کے زمانے میں کپتان یہ واضح کرتے تھے کہ اگر رنز نہیں بن رہے تو ون ڈے میں دس اور ٹی ٹوئنٹی میں چار اوور کی ضرورت نہیں۔
محمد حفیظ نے کہا کہ اسی طرح شاداب اور نواز کی پہلی ذمہ داری بولنگ ہے جبکہ صائم کی بیٹنگ۔ اگر کھلاڑی اپنی بنیادی ذمہ داری پوری نہیں کر رہے تو ان کا ٹیم میں ہونا کیا معنی رکھتا ہے۔













