بلوچستان اسمبلی نے قومی اسمبلی میں صوبے کی نشستوں میں اضافے سے متعلق قرارداد منظور کر لی ہے، جس میں وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ بلوچستان کی نمائندگی بڑھائی جائے تاکہ صوبے کے عوام کو قومی سطح پر مؤثر آواز مل سکے۔
قرارداد کو ایوان میں مختلف سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل ہوئی، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر محمد صادق عمرانی نے اسے بلوچستان کے عوام کا آئینی اور دیرینہ مطالبہ قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں: قومی اسمبلی میں بلوچستان کی نشستیں بڑھانے کا معاملہ، سینیٹ قائمہ کمیٹی قانون و انصاف نے ذیلی کمیٹی تشکیل دے دی
قرارداد میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے، مگر قومی اسمبلی میں اس کی نشستیں محدود ہیں، جس کی وجہ سے صوبے کے مسائل قومی سطح پر مؤثر انداز میں پیش نہیں ہو پاتے۔
اراکین اسمبلی کا کہنا تھا کہ نشستوں میں اضافے سے نہ صرف بلوچستان کی سیاسی آواز مضبوط ہوگی بلکہ وفاق کی پالیسی سازی میں صوبے کا کردار بھی بڑھ جائے گا۔
مزید پڑھیں: بلوچستان اسمبلی میں نشستوں میں اضافے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور
سیاسی مبصرین کے مطابق قومی اسمبلی کی نشستوں میں اضافہ یقیناً بلوچستان کی سیاسی نمائندگی کو مضبوط بنا سکتا ہے، تاہم صرف نشستوں میں اضافہ صوبے کے بنیادی مسائل کا مکمل حل نہیں ہوگا۔
بلوچستان کے بڑے مسائل میں پسماندگی، بنیادی سہولیات کی کمی، بے روزگاری، انفرا اسٹرکچر کی کمزوری اور امن و امان کی صورتحال شامل ہیں، ان مسائل کا تعلق صرف نمائندگی سے نہیں بلکہ پالیسی پر مؤثر عملدرآمد، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور گورننس کے نظام سے بھی ہے۔
مزید پڑھیں: بلوچستان اسمبلی بلڈنگ کی تعمیر نو ہائیکورٹ میں چیلنج
اگر نشستوں میں اضافہ ہوتا ہے تو اس سے بلوچستان کے مزید نمائندے قومی اسمبلی میں پہنچ سکیں گے، جو بجٹ، ترقیاتی منصوبوں اور قانون سازی کے دوران صوبے کے مسائل کو زیادہ مؤثر انداز میں اٹھا سکیں گے۔ اس سے وفاقی سطح پر بلوچستان کے لیے ترقیاتی فنڈز اور منصوبوں کے حصول کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔
تاہم بعض ماہرین کا خیال ہے کہ ماضی میں بھی بلوچستان کو قومی اسمبلی اور سینیٹ میں نمائندگی حاصل رہی ہے، لیکن اس کے باوجود صوبہ ترقی کے حوالے سے دیگر صوبوں سے پیچھے رہا۔
مزید پڑھیں: بلوچستان اسمبلی کی عمارت گرانے کا فیصلہ، نئی تعمیر پر کتنی رقم خرچ ہوگی؟
اس کی ایک بڑی وجہ پالیسیوں پر عملدرآمد میں کمزوری، انتظامی مسائل اور وسائل کے مؤثر استعمال کا فقدان قرار دیا جاتا ہے، نشستوں میں اضافہ اسی صورت میں مؤثر ثابت ہو سکتا ہے جب منتخب نمائندے فعال کردار ادا کریں اور صوبے کے مسائل کو مستقل بنیادوں پر قومی سطح پر اٹھائیں۔
اگر نمائندگی بڑھ بھی جائے لیکن پالیسی سازی اور عملدرآمد میں بہتری نہ آئے تو عوام کو خاطر خواہ فائدہ نہیں ہو سکے گا، بلوچستان کے وسیع رقبے اور پسماندہ علاقوں کو مدنظر رکھتے ہوئے نمائندگی میں اضافہ ایک مثبت قدم ہو سکتا ہے، کیونکہ اس سے عوام اور نمائندوں کے درمیان فاصلے کم ہوں گے اور مقامی مسائل کو بہتر انداز میں سمجھا جا سکے گا۔
مزید پڑھیں: قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت حاصل، اب حکومت کیا کچھ کر سکتی ہے؟
بلوچستان میں طویل عرصے سے احساس محرومی پایا جاتا ہے، جس کی ایک وجہ قومی سطح پر محدود نمائندگی بھی سمجھی جاتی ہے، نشستوں میں اضافہ صوبے کے عوام کو یہ احساس دے سکتا ہے کہ ان کی آواز کو اہمیت دی جا رہی ہے، جس سے سیاسی استحکام اور وفاق پر اعتماد میں بہتری آ سکتی ہے۔
ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ قومی اسمبلی کی نشستوں میں اضافہ بلوچستان کے لیے ایک اہم اور مثبت قدم ثابت ہو سکتا ہے، تاہم یہ صوبے کے تمام مسائل کا مکمل حل نہیں ہوگا۔
اس کے ساتھ ساتھ بہتر گورننس، ترقیاتی منصوبوں پر مؤثر عملدرآمد، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور سیاسی قیادت کے فعال کردار کی بھی ضرورت ہوگی، اگر یہ تمام عوامل یکجا ہوں تو نشستوں میں اضافہ بلوچستان کی ترقی اور مسائل کے حل میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔













