ایران کی وزارت خارجہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ان دعووں کو بڑا جھوٹ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا جن میں کہا تھا کہ تہران ایسے میزائل تیار کر رہا ہے جو امریکا تک پہنچ سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران امریکا تک مار کرنے والے میزائل تیار کررہا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ
وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایک بیان میں کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام، ایران کے بیلسٹک میزائلز اور جنوری کے احتجاج کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کے بارے میں جو بھی دعوے کیے جا رہے ہیں سب محض ‘بڑے جھوٹ’ کی تکرار ہے۔
ترجمان نے واضح نہیں کیا کہ وہ کس دعوے کا جواب دے رہے ہیں تاہم چند گھنٹے قبل صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران ایسے میزائل تیار کر رہا ہے جو امریکی سرزمین تک پہنچ سکیں۔
فروری میں الجزیرہ کو دیے گئے انٹرویو میں ایران کے وزیر خارجہ عباس اراغچی نے کہا کہ تہران کے پاس امریکا کو نشانہ بنانے کی صلاحیت نہیں لیکن اگر واشنگٹن حملہ کرے تو امریکی اڈوں پر حملہ کیا جائے گا۔
مزید پڑھیے: ایران چین سے سپرسونک اینٹی شپ میزائل خریدنے کے قریب، خطے میں کشیدگی میں اضافہ
صدر ٹرمپ نے اپنے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں یہ بھی کہا کہ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور تہران کے رہنما اس وقت دوبارہ اپنے خطرناک جوہری عزائم کی پیروی کر رہے ہیں۔
Professional liars are good at creating the 'illusion of truth.'
"Repeat a lie often enough and it becomes the truth”, is a law of propaganda coined by Nazi Joseph Goebbels. This is now systematically used by the U.S. administration and the war profiteers encircling it,…
— Esmaeil Baqaei (@IRIMFA_SPOX) February 25, 2026
ایران بار بار کہہ چکا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کر رہا تاہم پرامن مقاصد کے لیے جوہری ٹیکنالوجی استعمال کرنے کا حق ضرور رکھتا ہے۔
امریکی صدر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایرانی حکام نے دسمبر سے شروع ہونے والے احتجاج کے دوران، جن کا عروج 8 اور 9 جنوری کو تھا، 32,000 افراد کو ہلاک کیا۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ نے ایران پر ممکنہ حملے کے حوالے سے اعلیٰ فوجی قیادت کے خدشات کی رپورٹس مستردی کردیں
ایرانی حکام نے 3,000 سے زائد ہلاکتوں کا اعتراف کیا لیکن کہا کہ یہ تشدد امریکی اور اسرائیلی اشتعال انگیزی سے پیدا ہونے والے دہشتگردانہ اقدامات کی وجہ سے ہوا۔













