جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو میں منگل کی شام ہزاروں شہری وزیراعظم سانائے تاکائچی کی متنازعہ پالیسیوں کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے۔ مظاہرین نے آئینی ترمیم کی تیز رفتاری، عسکری صلاحیتوں میں توسیع اور قومی انٹیلیجنس کے اداروں کو مضبوط بنانے کی کوششوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔
مظاہرے میں شریک افراد نے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا آئینی ترمیم سے فاشزم کو آزاد نہ ہونے دیں، جبکہ نعرے بازی میں کوئی جنگ نہیں بھی شامل تھی۔
یہ بھی پڑھیں: جاپان میں پارلیمنٹ کے انتخابات، سانائے تاکائچی ملک کی پہلی خاتون وزیرِاعظم منتخب
مظاہرے میں شریک رہنما نوری کو کاشیکاوا نے کہا کہ وہ تاکائچی کی پالیسیوں کی 100 فیصد مخالفت کرتی ہیں اور خبردار کیا کہ اگر جاپان کو مستقل جنگ کی تیاری کی پالیسیوں کی طرف دھکیلا گیا تو یہ ملک کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے۔

کالج کی طالبہ ماتسوبارا نے بھی کہا کہ حکومت کے حالیہ اقدامات جنگ کی تیاری کے مترادف ہیں، ملک میں عوام کی رائے کی ترجمانی کرنے والی حکومت ہونا چاہیے۔

گزشتہ ہفتے پارلیمان میں سانائے تاکائچی نے اپنے خطاب میں دفاعی صلاحیتوں کو بنیادی طور پر مضبوط کرنے، مہلک ہتھیاروں کی برآمدات میں اضافہ اور قومی انٹیلی جنس کے اداروں کو مضبوط بنانے کے لیے آئینی ترمیم کی ضرورت پر زور دیا تھا، جس پر ملک بھر میں عوامی تشویش اور تنقید کی لہر دوڑ گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سانائے تاکائی چی: جاپان کی ’آئرن لیڈی‘ اور پہلی خاتون وزیراعظم کون ہیں؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ جاپان میں بڑھتی ہوئی عسکری اور سخت گیر پالیسیوں کے باعث عوامی احتجاجوں میں اضافہ متوقع ہے اور نوجوان نسل زیادہ فعال ہو رہی ہے تاکہ ملکی مستقبل پر اثر انداز ہونے والی پالیسیوں پر نظر رکھی جا سکے۔












