وفاقی آئینی عدالت نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے سیکریٹری دفاع، سیکریٹری داخلہ، چیف کمشنر اور ایس ایچ او تھانہ گولڑہ کے خلاف جاری کارروائی پر حکم امتناع جاری کر دیا۔
مزید پڑھیں: وفاقی آئینی عدالت کا بڑا فیصلہ، ٹیکس چھاپوں پر حکام کو وسیع اختیارات حاصل
چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے سماعت کی اور افسران کی انٹراکورٹ اپیلیں منظور کرتے ہوئے سماعت غیر نتیجہ مدت تک ملتوی کر دی۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے مطابق عدالت کے پاس ایسا کوئی مواد موجود نہیں تھا جس سے یہ تعین ہوتا کہ لاپتا شخص سرکاری تحویل میں ہے۔ لاپتا شخص کے اہلخانہ نے سرکاری تحویل میں ہونے کا بیان حلفی دیا تھا، جبکہ متعلقہ افسران نے جوابی حلف نامے میں کہا کہ لاپتا شخص سرکاری تحویل میں نہیں۔
مزید پڑھیں: وفاقی آئینی عدالت میں محمود خان اچکزئی کی بطور اپوزیشن لیڈر تقرری چیلنج
اسلام آباد ہائیکورٹ نے شہری ساجدالرحمان کی سرکاری تحویل سے رہائی اور افسران کیخلاف کارروائی کا حکم دیا تھا، جسے آئینی عدالت نے عارضی طور پر روک دیا ہے۔













